جمعہ, مئی 8, 2026
اشتہار

منگھو پیر اور مگرمچھوں کے جھنڈ کی تصویر

اشتہار

حیرت انگیز

آج سے ایک سو پانچ برس پہلے یعنی 1890ء میں الیگزنڈر ایف بیلی کی کتاب شائع ہوئی جو کراچی پر ایک مستند اور معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے۔ بیلی نے کراچی کے بارے میں اپنی یادداشتیں تحریر کرتے ہوئے مختلف مذاہب کے تہواروں اور میلے ٹھیلوں کا بھی ذکر کیا ہے جو کراچی میں جوش و خروش سے منائے جاتے تھے۔

کراچی کی دیوالی کا ذکر کرتے ہوئے بیلی کہتا ہے کہ یہ دراصل گھر کی صفائی اور سارے گھر میں نئے رنگ روغن کے کیے جانے اور سال بھر کا حساب کتاب کرنے کا تہوار ہے۔ اصولی طور پر دیوالی دو دن منائی جاتی ہے لیکن کراچی میں یہ جمعرات سے پیر تک منائی جاتی ہے اور ان ایام میں سارا شہر شور و ہنگامے سے گونجتا رہتا ہے۔ ان دنوں میں شہر کے ہندوؤں، مسلمانوں اور پارسیوں کی چھٹی ہوتی ہے۔ تمام لوگ حد تو یہ ہے کہ کرسچین بھی اس تہوار میں شریک ہوتے ہیں۔ بیلی لکھتا ہے کہ ایک دیوالی کے موقع پر میں بھی ایک ہندو گھرانے میں مدعو تھا۔ میں جب وہاں پہنچا تو سارا خاندان اس گھر میں اکٹھا تھا۔ ہر طرف چراغاں ہو رہا تھا، پٹاخے چھوڑے جا رہے تھے اور پھلجڑیاں جلائی جارہی تھیں۔ میں جب گھر کے اندر لے جایا گیا تو مجھے خلیج فارس کا نہایت عمدہ عطر لگایا گیا اور مجھ پر گلاب پاش سے عرق گلاب کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ہمارے شیمپین کے گلاس خالی نہیں ہونے دیے گئے اور مسلسل بھرے جاتے رہے۔ بیلی نے رام باغ میں ہونے والے ناریل کے میلے کا بہ طور خاص ذکر کیا ہے جو کراچی کے بہت مشہور میلے ٹھیلے کی حیثیت رکھتا تھا۔

وہ لکھتا ہے کہ یہ میلہ مہا دیو کی یاد میں لگتا ہے، تاہم اس کا تعلق دسہرے کے تہوار سے بھی ہے۔ منگھو پیر اور منوڑا کا میلہ بھی کراچی کی خاص چیزیں ہیں۔ منگھو پیر کے میلے میں زیادہ تر مسلمان شریک ہوتے ہیں جب کہ منوڑا کا میلہ ہندو مسلمان مل کر مناتے ہیں۔ لیاری ندی کے کنارے ایک جگہ میراں پیر کہلاتی ہے، وہاں بھی مسلمان دو دن کے لیے میلہ لگاتے ہیں۔ کلفٹن پر بھی ایک بڑا میلہ لگتا ہے جس میں شریک ہونے والوں کی اکثریت ہندوؤں کی ہوتی ہے جو کہ شیو دیوتا کی پوجا کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں۔ کراچی کے ہندو مچھیرے ایک تہوار مچھی میانی میں مناتے تھے جو کہ نومبر دسمبر کے درمیان منایا جاتا ہے۔ اس تہوار میں مسلمان مچھیرے بھی شرکت کرتے ہیں۔

کراچی کے پارسیوں کا بیلی نے بہت محبت اور احترام سے ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ اپنے تہوار بہت دھوم دھام سے نہیں مناتے لیکن ہندوؤں مسلمانوں اور کرسچنوں کے تہوار میں خوش دلی سے شریک ہوتے ہیں۔ پارسیوں کو فلاحی کام کرنے کا بہت شوق ہے، اس لیے انہوں نے متعدد ایسے ادارے کھول رکھے ہیں جہاں غریبوں کی فلاح اور بہبود کے لیے کام ہوتا ہے اور جہاں سے کسی بھی مذہب کے ماننے والے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پارسی ڈنر اور ڈانس پارٹیوں کے بہت شوقین ہیں۔ پارسی اپنے جس تہوار کو شان و شکوہ سے مناتے ہیں وہ نو روز کا تہوار ہے۔ یہ تہوار جو ۲۱ مارچ کو منایا جاتا ہے، "جمشیدی نو روز” کہلاتا ہے اور اسے صرف کراچی کے ہی نہیں بلکہ سارے ہندوستان کے مسلمان ہندو پارسی بہت دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ بیلی نے کراچی میں منائے جانے والے کرسمس کا بھی سرسری انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر اعلیٰ انگریز افسران کرسمس کی تقریبات اگر لندن میں نہ گزار سکیں تو بر صغیر کے کسی بڑے شہر میں منانا پسند کرتے تھے۔

بیلی نے اپنی کتاب میں منگھو پیر کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ اس درگاہ کا نام پیر منگھو ہے اور ہندو اور مسلمان دونوں اس درگاہ پر جوق در جوق آتے ہیں۔ یہ درگاہ ایک بزرگ صوفی کمال الدین سے منسوب ہے۔ لیکن جب انہیں اس چشمے کے ساتھ کی ٹیکری پر دفن کیا گیا تو وہ کمال الدین سے پیر منگھو ہو گئے۔ ان بزرگ کی شہرت اور اس درگاہ کی حیثیت سندھ پر برطانوی قبضے سے کہیں پرانی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ برطانوی قبضے سے پہلے بھی ان کی درگاہ کو روشن رکھنے کے لیے ہر مہینے ساڑھے سات سیر تیل کا نذرانہ سرکار کی طرف سے دیا جاتا تھا۔ مگرمچھ جو کہ ایک نہایت کریہہ اور گھناؤنا رینگنے والا جانور ہے اس کی ہندوستان میں بہت تعظیم کی جاتی ہے۔ بیلی کے کہنے کے مطابق اودے پور کی ہندو ریاست میں مگرمچھوں کا شکار انیسویں صدی کے وسط تک ممنوع تھا اور جے پور کی ریاست میں اب تک ان کی بطور خاص پرورش کی جاتی ہے اور شاید قدیم مصر کے سوا ان کی کبھی کہیں پوجا نہیں کی گئی۔ تاہم کراچی کے منگھو پیر میں جو مگرمچھ پائے جاتے ہیں ان کی زیارت کو ہندوؤں سے کہیں زیادہ تعداد میں مسلمان جاتے ہیں۔ منگھو پیر میں رہنے والے ایک فقیر نے بیلی کو بتایا کہ مگر مچھ بہت طویل عمر پاتے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو مناسب ہو گا کہ وہ انسان کی طرح ستر اسی برس زندہ رہتے ہیں۔

منگھو پیر کی پہاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے بیلی نے لکھا ہے یہ کراچی سے جنوب میں صرف ساڑھے سات میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ وہاں تک جانے والی سڑک ٹھیک ٹھاک ہے لیکن منزل کے قریب پہنچ کر سڑک بہت اونچائی کی طرف گئی ہے جس کی وجہ سے چڑھائی میں قدرے مشکل ہوتی ہے۔ منگھو پیر کی درگاہ سطح سمندر سے کچھ سو فٹ بلندی پر ہے اس لیے میں وہاں جانے والوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اپنی گاڑی میں تیسرا گھوڑا بھی جوت کر جائیں تاکہ چڑھائی کو آسانی سے عبور کیا جاسکے۔

بیلی نے اپنی کتاب میں ایک دل چسپ واقعہ بھی تحریر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ کراچی کے وہ مقامات جو ذہن پر گہرے نقش چھوڑتے ہیں ان میں سے ایک منگھو پیر کی وادی بھی ہے۔ اس وادی کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ کمانڈر کارلس کا ذکر کرنا نہیں بھولتے جس نے اپنی کتاب میں اس وادی کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھا ہے کہ میں زندگی میں اس وادی کی سیر کو کبھی نہیں فراموش کر سکوں گا۔

بیلی لکھتے ہیں کہ جب میں نے مقدس مگرمچھوں کی اس وادی کی سیر کی تو میں کارلس کے بیان کا قائل ہو گیا اور کئی راتوں تک میرا یہ عالم رہا کہ میں نیند سے چونک چونک جاتا تھا۔ بیلی نے ان مگرمچھوں کی ایک تصویر بھی حاصل کی تھی جو اس کی کتاب میں شائع ہوئی اور جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ تصویر ۳۳ ویں رجمنٹ کے سارجنٹ نے بہت مشکل سے اور جان کو خطرے میں ڈال کر اتاری تھی۔ اس سارجنٹ کا کہنا تھا کہ مگرمچھوں کے محافظ اس کے لیے تیار نہ تھے کہ ان مگرمچھوں کی تصویر اتاری جائے۔ چنانچہ سارجنٹ کو چھپ کر ایک ایسی دیوار پر چڑھنا پڑا جس پر سے اگر اس کا پیر پھسل جاتا تو وہ مگرمچھوں کے معدے کی زینت بن جاتا۔ تاہم وہ تمام خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے دیوار پر چڑھ گیا اور اس نے مگرمچھوں کی دم کے جھٹکے اور مہیب جبڑوں سے محفوظ رہنے کی تمام تدبیریں کر لیں لیکن اس نے دیوار کی جڑ میں نظر آنے والی مٹی کے ڈھیر کو قطعاً نظر انداز کر دیا۔ ان مگرمچھوں کے غول کی تصویر اتارنے کے لیے اسے اپنے کیمرے کا اسٹینڈ کسی نہ کسی طور دیوار پر ٹکانا پڑا اور ان ہی کوششوں کے دوران اس کی ایڑی مٹی کے اس ڈھیر پر پڑی اور مٹی کا وہ ڈھیر تڑپ کر اٹھا تو سارجنٹ کو علم ہوا کہ جسے وہ مٹی کا تودہ سمجھ رہا تھا وہ در اصل ایک مگرمچھ تھا لیکن قبل اس کے کہ سارجنٹ کچھ کر سکتا مگرمچھ کی دُم اس کے کیمرہ اسٹینڈ پر پڑی اور وہ نیچے جاگرا۔

سارجنٹ اپنی جان بچ جانے پر شکر ادا کرتے ہوئے کچھ دیر تو اپنا کیمرہ سینے سے لگائے دیوار پر بیٹھا رہا۔ پھر اس نے کسی طور اپنا اسٹینڈ نیچے اتر کر حاصل کیا اور کس طرح مگرمچھوں کی پہلی کیمرہ تصویر اتاری، یہ ایک لمبی کہانی ہے، تاہم بیلی کی کتاب میں چھپی ہوئی ہے۔ اس تصویر کو دیکھا جائے تو سارجنٹ کو داد ضرور دینا پڑتی ہے جس نے ایک درجن سے زیادہ مگرمچھوں کے جھنڈ کی تصویر اتاری اور پھر بھی محفوظ رہا۔

(احمد حسین صدیقی کی کتاب گوہرِ بحیرۂ عرب کراچی سے اقتباس، یہ کتاب 1995ء میں شایع ہوئی تھی۔ اس کے مصنّف کا تعلق امروہہ سے تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد کراچی میں ادارۂ ترقیات میں ملازم ہوئے اور لکھنے لکھانے سے شغف رکھتے تھے۔ سو، انھوں نے اپنے علمی و تحقیقی مضامین کو کتابی شکل دی جس سے یہ پارہ لیا گیا ہے)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں