site
stats
سندھ

کراچی : غیرت کے نام پر دو خواتین قتل

Killing

 کراچی : آج صبح کراچی کے دو مختلف علاقوں میں 2 خواتین  موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔ دوہرے قتل کے واقعات اورنگی ٹاؤن مومن آباد اور قائد آباد میں پیش آئے۔

پہلا واقعہ اورنگی ٹاؤن کے علاقے مومن آباد میں پیش آیا جہاں سولہ سالہ سمیرا کو اس کے بھائی نے موبائل فون کے استعمال پرچھریوں کے وار سے قتل کردیا۔ قتل کی واردات کے بعد سمیرا کو گلی میں لاکر پھینک دیا گیا ۔

جواں سالہ لڑکی گلی میں تڑپتی رہی  اور ارد گرد جمع ہونے والے افراد بے حسی سے سمیرا کو دیکھتے رہے جبکہ قاتل ہاتھ میں آلہ قتل لے بہن کے لاشے کے قریب بیٹھ کر ہجوم کو مخاطب کر کے اپنی بہادری کے قصے سناتا رہا ۔  پولیس نے قاتل کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا ہے۔

 سفاک قاتل کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے ۔ دوران تفتیش ملزم نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اُس نے بہن کو ایک لاکھ روپے کے عوض فروخت کر کے شادی کر دی تھی۔مگر بہن اس کے ساتھ رہنے پر راضی نہیں تھی۔

دوسرا واقعہ اولڈ مظفر آباد کالونی  مظفر آباد میں پیش آیا جہاں مہرالنسا ء کو گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا ۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق خاتون کی تین سال قبل شادی ہوئی تھی اور اس کے قتل میں گھر کے افراد ملوث ہیں ۔  یہ قتل بھی غیرت کے نام پر کیا گیا۔

واضح رہے رواں سال اب تک ملک بھرمیں 6 خواتین قتل کی جاچکی ہیں۔

اس سے قبل بھی ملک کے مختلف شہروں میں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں درندہ صفتے انسانوں نے اپنے جنم دینے والدین کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔

18فروری 2016: کراچی میں بدبخت بیٹے نے گھریلوتنازع پرایک دن قبل اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور اگلے ہی روزماں کوچھری کےپےدرپےوارکرکےقتل کردیا۔ ملزم غلام ربانی اسٹیٹ بینک میں جوائنٹ ڈائریکٹرکےعہدےپرفائز ہے۔

19فروری 2016: فیروزوالا کے علاقے ونڈالہ دیال شاہ میں ماں نے پیرکےکہنے پراپنےبیٹے کو موت کی نیند سلادیااور جب اسے احساس ہوا تو پچھتاوے کے سوا اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔

27اکتوبر 2015: گزشتہ سال لاہورمیں بیٹے نے ماں اورسوتیلے باپ کی زندگی کاخاتمہ کیا، تنازعے کا سبب جائیداد تھی۔

مئی 2015: تیرہ کے علاقے شانگلہ میں بدنصیب بیٹے نے ماں اور چچی کو گولیوں کانشانہ بنادیا۔

نومبر2013: کراچی کے علاقے اورنگی ٹاوٗن میں سنگدل بیٹے نے ماں باپ کوقتل کرکے آری سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top