The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں قیدیوں کو پیشی کے بعد جیل واپس لانے کے بجائے گھروں پر لے جانے کا انکشاف

کراچی : کورٹ پولیس کی جانب سے پیشی پر جانے والے قیدیوں کو گھروں پر لے جانے کی سہولت کا انکشاف ہوا، پولیس اہلکار قیدیوں کیلیے جیل وین کے بجائے پرائیوٹ کاریں استعمال کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دعا منگی کیس کے اہم ملزم زوہیب قریشی کے فرار کے بعد تفتیشی حکام نے مجرمانہ غفلت پر سر جوڑ لیے، سپرنٹنڈنٹ کراچی سینٹرل جیل کی جانب سے 17 اپریل 2021 کو ایس ایس پی کورٹ پولیس کو لکھا گیا خط اے آر وائے نیوز نے حاصل کرلیا۔

جیل سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو کی جانب سے ایس ایس پی کورٹ پولیس سمیت متعلقہ حکام کو لکھے گئے خط نے مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔

خط میں بتایا گیا کہ کورٹ پولیس نیب سمیت اہم مقدمات کے قیدیوں کو پرائیویٹ کاروں میں گھر تک لے جانے اور واپس لانے کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔

خط میں انکشاف کیا گیا کہ کورٹ پولیس نیب سمیت اہم مقدمات کے قیدیوں کو پرائیویٹ کاروں میں گھر تک لے جانے اور واپس لانے کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ جیل کورٹ پولیس حکام سمیت ڈی آئی جی جیل کو بھی غیر قانونی عمل سے آگاہ کیا تھا۔

خط میں بتایا گیا کہ کورٹ پولیس اہلکار جیل وین کے بجائے پرائیوٹ کاروں کا استعمال کرتے ہیں اور عدالت سے پیشی کے بعد کورٹ پولیس کے اہلکار نیب اور دیگر خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کرنے والے قیدیوں کو جیل واپس لانے کے بجائے گھروں پر لے جایا جاتا ہے، جہاں وہ آرام سے فیملیز کے ساتھ وقت گذارتے ہیں اور دیگر امورنمٹانے کے بعد جیل واپس آتے ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ جیل کی جانب سے کہا گیا کہ صورتحال سے سیکیورٹی رسک اور بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

خط میں قیدیوں کی جیل وین میں آمدورفت کو یقینی بنانے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا کہا گیا تھا اور یہ بھی بتایا گیا کہ بروقت کارروائی سے مستقبل میں سیکیورٹی رسک روکنے میں مدد ملے گی۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق اہم معاملے پر ڈی آئی جی جیل کی جانب سے بھی معاملے کا نوٹس نہ لیا، زوہیب قریشی ہر بار پرائیوٹ کار پر جیل سے گھر جاتا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں