کراچی: ملیرگڈاپ سٹی میں آٹھ کروڑ کی ڈکیتی کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر، گڈاپ سٹی کے نجی ولاز میں ہونے والی سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات کی تفتیش کے لیے ہائی لیول تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔
ڈکیتی کی اس سنگین واردات میں مسلح ملزمان کروڑوں روپے مالیت کا سونا، چاندی اور نقدی لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔
ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے تحت بنائی گئی اس خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی کمانڈ ڈی آئی جی مقدس حیدر کو سونپی گئی ہے۔
سنگین ڈکیتی کیس کا سراغ لگانے اور ملزمان کے گھیرا تنگ کرنے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی میں تجربہ کار پولیس افسران کو شامل کیا گیا ہے۔
چار رکنی ٹیم میں ڈی آئی جی مقدس حیدر سربراہ کمیٹی ہوں گے جبکہ ایس ایس پی ملیر، ایس پی ایس آئی یو اور ایس پی انویسٹی گیشن بھی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم کو انتہائی وسیع اختیارات حاصل ہوں گے،کمیٹی ملزمان کی کھوج لگانے کے لیے کراچی رینج کے کسی بھی پولیس افسر یا اہلکار کی خدمات حاصل کر سکتی ہے اور کسی بھی تھانے کے نفری یا خفیہ وسائل سے مدد لے سکتی ہے۔
خصوصی انفرادی ٹیم ملزمان کا ڈیٹا بیس، جدید تکنیکی شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لے کر ملزمان کی فوری شناخت اور گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کرے گی جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ 8 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سونے، چاندی، نقدی اور دیگر قیمتی سامان ریکور کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ گڈاپ سٹی کے کرپلانی ولاز میں واقع ایک ہندو تاجر کے بنگلے میں 8 مسلح ڈاکو عقبی دروازے سے داخل ہوئے تھے، جنہوں نے چوکیدار اور اہل خانہ کو یرغمال بنا کر 175 تولہ سونا، 300 تولہ چاندی، لاکھوں روپے کی نقدی، قیمتی گھڑیاں اور دیگر سامان لوٹ لیا تھا۔
گڈاپ سٹی تھانے میں متاثرہ خاندان کی مدعیت میں سنگین ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔


