The news is by your side.

Advertisement

کرونا مریض کی انتقامی کارروائی، افسر قرنطینہ ہو گئے

کراچی: کے ایم سی کے معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ڈائریکٹر ایچ آر سے گلے ملنے کے واقعے بعد جمیل فاروقی قرنطینہ میں چلے گئے ہیں، کے ایم سی بلڈنگ میں پبلک ڈیلنگ کی پابندی پر بھی سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کو تنخواہ روکنے پر ناراض اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہزاد انور نے ڈائریکٹر ایچ آر ایم جمیل فاروقی کو انتقامی طور پر ان کے دفتر میں گلے لگا لیا تھا، جب کہ وہ کرونا وائرس کا شکار تھے، واقعے کے بعد جمیل فاروقی قرنطینہ میں چلے گئے۔

کے ایم سی بلڈنگ میں عام شہریوں کے لیے داخلہ بند کر دیا گیا ہے، ماسک پہننا بھی ضروری قرار دے دیا گیا، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے بھی کے ایم سی بلڈنگ میں آمد و رفت محدود کر دی، کے ایم سی میں 50 فی صد حاضری کم کر دی گئی، باقی گھروں سے کام کر رہے ہیں۔

واقعے کے وقت معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہزاد انور کرونا کا شکار تھے، بعد ازاں انھیں ایک شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی تنخواہ غفلت اور لاپرواہی پر روکی گئی، تاہم انھوں نے طیش میں آ کر اپنے ساتھیوں سمیت دفتر میں داخل ہو کر ڈائریکٹر سے بدتمیزی کی اور ان سے گلے مل کر بوسہ دیا۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ ایک ہفتے میں اپنے عمل کی وضاحت کی جائے ورنہ ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔ شہزاد انور کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی جا چکی ہے۔

تنخواہ روکنے پر کرونا مریض نے افسران کو گلے لگا لیا

واقعے کے بعد ہفتے کو کے ایم سی بلڈنگ کے تمام دفاتر کو ڈس انفیکٹ کیا گیا، فائر بریگیڈ کی گاڑی کی مدد سے پوری بلڈنگ کے فرش کی دھلائی کی گئی، سینئر ڈائریکٹر جمیل فاروقی کا کرونا ٹیسٹ بھی کیا گیا ہے۔

کے ایم سی انتظامیہ کی جانب سے شہزاد انور کے خلاف کارروائی کے لیے کمیٹی بھی قائم کی جا چکی ہے، جس میں سینئر ڈائریکٹر کوآرڈی نیشن، سینئر ڈائریکٹر انسداد تجاوزات اور ڈی جی پارکس شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں