site
stats
اہم ترین

کراچی کنگز اور پی ٹی وی معاہدے کی منسوخی، سیاست دانوں کی سخت تنقید

اسلام آباد : پی ٹی وی اسپورٹس نے کراچی کنگز کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کو روک دیا ہے جب کہ معاہدے کرنے والے ڈائریکٹر اسپورٹس ڈاکٹر نعمان نیاز کو بھی او ایس ڈی کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی ٹیلی ویژن کے اسپورٹس چینل اور پی ایس ایل کی سب سے مہنگی ٹیم کراچی کنگز کے درمیان طے پائے جانے والے دو سالہ معاہدے پر عمل در آمد کو روک کر معاہدہ کرنے والے ڈائریکٹر پی ٹی وی اسپورٹس ڈاکٹر نعمان نیاز کو عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدام وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے اُٹھایا گیا ہے اور اس اہم معاہدے پر عمل درآمد کو روکنے جیسی اہم خبر کو محض ایک ٹویٹ کے ذریعے نشر کیا گیا۔


*پی ایس ایل، کراچی کنگز اور پی ٹی وی اسپورٹس کے درمیان معاہدہ


یاد رہے پی ٹی وی اسپورٹس چینل اسلام آباد یونائیٹڈاورکوئٹہ گلیڈی ایئٹر کی ٹیموں کا بھی پارٹنر ہے اوردوروز قبل کراچی کنگز کے ساتھ بھی دو سالہ معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت قومی ٹیلی ویژن کا اسپورٹس چینل کراچی کنگز کے تمام میچز اوراس سے متعلق منعقدہ تقریبات کو براہ راست نشرکرنا تھا۔

واضح رہے کراچی کنگز کے مالک اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال ہیں اوراس معاہدہ پرکراچی کنگز کی جانب سے طارق وصی اور پی ٹی وی کی جانب سے ڈاکٹر نعمان نیاز نے دستخط کیے تھے جب کہ یہ معاہدہ ایم ڈی پی ٹی وی کی منظوری کے بعد طے پایا تھا۔

اہلیانِ کراچی نے پی ٹی وی کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اُٹھایا ہے کہ آخر وزارت اطلاعات کو کراچی کی ٹیم پر کیا اعتراض ہے؟ جب کہ وہ اسلام آباد اور کوئٹہ کی ٹیموں کے ساتھ بھی اشتراکی معاہدہ رکھتا ہے۔


حکومتی فیصلے پر سیاست دانوں کی شدید تنقید


پی ٹی وی اسپورٹس اور کراچی کنگز کے درمیان پی ایس ایل کے لیے ہونے والے اشتراکی معاہدے پر عمل در آمد کو روکنے کے عمل کو سیاست دانوں، اراکین اسمبلی اور معزز سماجی رہنماؤں نے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاق کی سطح پر کراچی ٹیم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ یہ معاہدہ ہوچکا ہے اسے اس طرح ختم نہیں کیاجاسکتا،اے آر وائی، سلمان اقبال اور کراچی کنگز کے پاس موقع ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کریں اور اس پر حکم امتناع حاصل کریں۔

انہوں نے کہا کہ اے آر وائی کا نام سن کر ہی حکم رانوں کو آگ لگ جاتی ہے،صرف کراچی کا ہی معاہدہ کیوں ختم کیا گیا؟حکومت کی قانونی پوزیشن کمزور ہے، اگر عدالت جائیں تو اے آر وائی کی جیت یقینی ہے، پی ٹی وی کو معاہدے پر عمل کرنا ہوگا۔

سندھ کے سینیئر وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ وفاق نے ایک بار پھر کراچی اور سندھ کو نظر انداز کر کے اپنے متعصبانہ رویے کا اظہار کیا ہے، حکومت کراچی کے شائقین کو محروم رکھنا چاہتی ہے۔

ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے کہا ہے کہ پی ٹی وی قومی ادارہ ہے اگر وہ کراچی کے میچز کو نشر کررہا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں، یہ کونسی غلط بات ہے، یہ تو اچھی چیز ہے، اس پر نظر ثانی کی جائے۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم نے کہا کہ اس عمل کی مذمت کرتا ہوں، فورا اس معاہدے کو بحال کیا جائے، ورنہ ہم سب مل کر احتجاج کریں گے۔

پاک سرزمین پارٹی کے رہنما آصف حسنین نے کہا کہ یہ ایک ظالمانہ اقدام ہے، نواز شریف اور شہباز شریف مداخلت کریں ، حکومت درباریوں سے جان چھڑائے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکنِ قومی اسمبلی اور اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کھیل کے سابقہ چیئرمین اقبال محمد علی نے معاہدے کی منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔


ڈائریکٹر اسپورٹس ڈاکٹر نعمان نیازکی کارکردگی کو بھلا دیاگیا


پی ایس ایل کی سب سے مہنگی اور مشہور ٹیم کراچی کنگز کے ساتھ پی ٹی وی اسپورٹس کے اشتراکی معاہدے پر پی ٹی وی کی جانب سے دستخط کرنے والے نعمان نیاز سے ڈائریکٹر اسپورٹس کا عہدہ واپس لے کر انہیں او ایس ڈی کردیا گیا ہے، وفاق نے یہ قدم اُٹھاتے ہوئے نہ صرف یہ کہ شائقین کرکٹ کو مایوس کیا بلکہ ڈاکٹر نعمان نیاز کی کارکردگی اور خدمات کو بھی یکسر بھلادیا۔

ڈائریکٹر اسپورٹس نعمان نیاز نہایت مستعد اور متحرک ڈائریکٹر ہیں انہوں نے نہ صرف یہ کہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کو بہ طور پینل اپنے پروگرام میں متعارف کرایا اور ان کی وجہ سے بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان آمد پر راضی ہوئے اور مختلف سیریز کے دوران ٹی وی پروگرام میں ماہرانہ رائے بھی دی۔

ان کھلاڑیوں میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے سنتھ جے سوریا، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا اور کرٹلی ایمبروز، آسٹریلیا سے مک گراتھ، ڈائمن مارٹن اور اینڈریو سمینڈ، انگلیند کی جانب سے رابن اسمتھ اور مارک بوچر جب کہ ساؤتھ افریقہ کے ہرشبل گبز اور جونٹی رہوڈز نے شرکت کر کے ثابت کیا کہ پاکستان کرکٹرز کے لیے محفوظ ملک ہے۔

یہ بین الاقوامی کھلاڑی اس وقت پاکستان آئے جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر پابندی ہے جس کا سارا کریڈٹ تن تنہا ڈاکٹر نعمان نیاز کو جاتا ہے جن کی بدولت دس بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان آئے۔

یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر نعمان نیاز کو کرکٹ کے لیے اعلیٰ خدمات کو حکومتی سطح پر بھی سراہا گیا اور صدارتی تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top