اتوار, اگست 16, 2026
اشتہار

کومل کو کس کی گولی لگی، جواب مل گیا لیکن بغیر داستانے شواہد اکھٹے کرنے کی ویڈیو نے فارنزک پر سوالیہ نشان لگا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (06 جنوری 2026): لانڈھی کیس میں 17 سالہ کومل کو کس کی گولی لگی؟ تحقیقاتی کمیٹی نے جواب تو فراہم کر دیا لیکن بغیر داستانے شواہد اکھٹے کرنے کی ویڈیو نے فارنزک پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

2 جنوری کو لانڈھی 6 نمبر پر اپنی والدہ کے ساتھ رکشے میں سوار 17 سالہ کومل گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی تھی، جس کے بعد ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری نے ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سودھڑ کی سربراہی میں 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی تھی۔ اس کمیٹی نے مکمل تفصیلی رپورٹ تیار کر لی ہے اور اس میں فرار ہونے والے ڈاکو کو کومل کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کومل فرار ہوتے ڈاکو کی گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی، مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ 4 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کومل کی والدہ اور رکشہ ڈرائیور عامر کے علاوہ 3 عینی شاہدین کے بیانات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔


چوں کہ مقتولہ کومل کی فیملی نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے یہ رپورٹ تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے سروے، بیانات، شواہد اور اس کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہوئے تیار کی گئی ہے، جس میں کومل کا قاتل فرار ہوتے ڈاکو کو قرار دیا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق انکوائری کمیٹی نے حقائق جاننے کے لیے کرائم سین کا دورہ کیا، شواہد اکھٹے کیے، متوفیہ کے اہل خانہ سے ملاقات اور ان کے بیانات قلم بند کیے، کرائم سین اور اطراف سے سی سی ٹی وی فوٹیج اکٹھی کرنے کی کوشش کی گئی، کمیٹی نے کرائم سین چراغ ہوٹل کا بھی دورہ کیا، لیکن چراغ ہوٹل کے قریب کسی شخص نے بھی واقعے کو دیکھنے سے انکار کیا، تاہم وہاں کے تمام دکان داروں کے ویڈیو بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

کومل کی والدہ کے مطابق وہ کومل کی دادی سے ملنے لانڈھی گئے تھے، انھوں نے چراغ ہوٹل سے رکشہ لیا اور 5 سے 6 منٹ کا سفر کیا، لانڈھی 6 کی سڑک پر گولی چلنے کی آواز آئی، اچانک رکشے کا شیشہ ٹوٹا، میری بیٹی کومل زخمی ہو گئی۔ میں نے دیکھا پولیس والا ایک آدمی کو روکنے کے لیے بندوق تانے کھڑا تھا، اس کے بعد میں بیٹی کو فوری طور پر کورنگی 5 اسپتال لے گئی، جہاں سے چھیپا کے ذریعے جناح اسپتال پہنچے، لیکن ڈاکٹروں نے میری بیٹی کو مردہ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق رکشہ ڈرائیور محمد عامر کی جانب سے بھی یہی بیان دیا گیا، عامر کے مطابق چلنے والی گولی سے وہ بھی زخمی ہو گیا تھا، لوگوں نے اسے کہا کہ وہ رکشہ وہاں نہ روکے تو وہ اسپتال لے گیا، جہاں اس نے دیکھا ماں بیٹی کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی، اس کے بعد رکشہ ڈرائیور دونوں کو اسپتال چھوڑ کر چلا گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق 2 جنوری کو 3 لاکھ روپے لے کر بینک سے نکلنے والے فیروز نامی شہری کو 3 ملزمان نے لوٹا تھا، علاقہ پولیس اسی دوران وہاں پہنچی تو انھیں اطلاع دی گئی۔ عوامی کالونی پولیس نے ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کیا اور 2 ملزمان کا پیچھا کرتے ہوئے لانڈھی تھانے کی حدود میں پہنچی۔

کمیٹی نے بتایا کہ جائے وقوعہ کے دورے، لوگوں کے بیانات اور دیگر شواہد سے کمیٹی اپنے نتیجے تک پہنچی، تحقیقات کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ وہاں پولیس مقابلہ چل رہا تھا، اور فرار ہوتے ڈاکو نے پولیس پر گولی چلائی، جو رکشے پر لگی اور وہ گولی رکشے میں بیٹھی کومل کو لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیم کو تاحال کرائم سین سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں مل سکی، کمیٹی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ کومل فرار ہونے والے ڈاکو کی گولی سے جاں بحق ہوئی۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔

مزید خبریں