The news is by your side.

Advertisement

جدید ٹیکنالوجی ’’ لائبریریز ‘‘ کو ویران کرنے کی ذمہ دار

عصر حاضر میں ہونے والی جدید ایجادات کے باعث جہاں انسانی زندگی آسان ہوئی وہیں کچھ اہم روایات اور ثقافتیں معدوم ہوگئیں، جن میں سب سے اہم لائبریریز ہیں۔ انٹرنیٹ اور ای کتابوں کے آنے کے بعد مطالعے کا ذوق رکھنے والے افراد نے کتب خانوں کا رخ کرنا کم کردیا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے باوجود لائبریری کا وجود باقی ہے تاہم اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو مستقبل میں کتب خانے بالکل ویران بھی ہوسکتے ہیں۔

ایک وقت تھا کراچی کی شناخت کتب خانوں سے ہی ہوتی تھی کیونکہ شہر میں 30 سے زائد لائبریریز موجود تھیں جہاں سے طالب علم اور مطالعے کا ذوق رکھنے والے افراد استفادہ کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔کراچی کی لائبریریز طلب علموں کی ضروریات پوری کرنے کا آسان ذریعہ بھی تھیں۔

شہر قائد میں قائم فریئر ہال میں موجود لیاقت لائبریری 1865 میں قائم ہوئی جہاں قیمتی اور اہم تصانیف موجود ہیں، حکومتی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے کتابوں اور الماریوں کو دیمک لگ چکا ہے۔

مزید پڑھیں: حسرت موہانی لائبریری عوام کے لیے کھول دی گئی

اسی طرح کراچی کی ایک اور محمود حسن لائبریری 1952 میں قائم ہوئی جہاں اس وقت بھی ساڑھے تین لاکھ سے زائد قیمتیں کتابیں موجود ہیں، اسی طرح ڈیفنس سینٹرل لائبریری جو برطانوی سفارت خانے میں موجود ہے یہاں بھی مختلف موضوعات کی 70 ہزار سے زائد تصانیف موجود ہیں۔

کتب خانے شہر کے منظر نامے سے غائب کیوں ہونے لگے؟

لائبریریز کے بھوت بنگلے جیسا منظر پیش کرنے کی وجہ قارئین کی تعداد کا کم ہونا ہے کیونکہ بیشتر کتب خانوں کی انتظامیہ کتاب کے کرائے کے عوض جمع ہونے والی رقم سے ہی مرمت اور نئی تصانیف خریدنے کا کام کرتی تھیں، اب اکثر صارفین انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل یا کمپیوٹر پر ہی اپنی متعلقہ کتاب کا مطالعہ باآسانی کرلیتے ہیں۔

نامور سینئر صحافی اختر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’علمی مطالعے یا تحقیق کے لیے جن کتابوں یا مواد کی ضرورت ہوتی ہے وہ باآسانی موبائل فون کی مدد سے مل جاتا ہے، جدید دور کی وجہ سے لوگوں کی کتب خانوں میں آمد ورفت کم ہوگئی اور آہستہ آہستہ لائبریرز کی تعداد بھی وقت کے ساتھ کم ہوتی گئی‘۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کی خوبصورت ترین لائبریری

اُن کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا تھا کہ جب نامور مصنفین اور شعرا کے افسانے خریدنے کی قارئین سکت نہیں رکھتے تھے تو وہ لائبریری سے چند پیسوں کے عوض کتاب حاصل کر کے اس کا باآسانی مطالعہ کرلیتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ہر دو یا تین گلیوں کے فاصلے پر ایک لائبریری ضرور موجود ہوتی تھی اسی طرح شہر کی ایک آنہ لائبریری بہت مشہور تھی جو صرف ایک آنے کے عوض کتاب کرائے پر فراہم کرتی تھی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ دو یا تین لوگ مل کر کتاب کا کرایہ دیتے تھے اور سب کی کوشش ہوتی تھی وہ مطالعہ کرلے، کتب خانے ویران ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مطالعے کا شوق ختم ہوگیا بلکہ اب صورتحال بہت تبدیل اور نظام بہت زیادہ جدید ہوگیا کیونکہ اب قاری کو واٹس ایپ، گوگل، وکی پیڈیا کی سہولت آسانی سے مل جاتی ہے اور وہ اپنا کام کامیابی سے کرلیتا ہے۔

اسے بھی پڑھیں: چین میں 12 لاکھ کتابوں پر مشتمل خوبصورت لائبریری

پڑھیں: فریئر ہال کی قدیم لائبریری تباہی کے دہانے پر

اختر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اپنی تحریر ، بلاگ، مقالے میں مستند بات یا تاریخی حوالہ دینا چاہتے ہیں تو اُس کے لیے کتاب کا موجود ہونا بہت ضروری ہے، انٹرنیٹ پر جو کتابیں موجود ہیں ان کے بھی مکمل مطالعے کے لیے رقم دینی ضروری ہوتی ہے، اس لیے کتاب کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ ایک سند ہے۔

لائبریریوں کی تاریخ

دنیا کی پہلی لائبریری کا قیام شام میں پانچ سال قبل ہوا، قدیم ترین کتب خانے 2500 قبل مسیض میں قائم ہوئے جہاں آج بھی کتابوں اور تصانیف کو مکمل حفاظت کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور مطالعے کا ذوق رکھنے والے تاریخی تصانیف سے استفادہ کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں