site
stats
پاکستان

کراچی: خودکشی کرنے والے طالبعلموں کا ایک اور خط منظرِعام پر

کراچی : پٹیل پاڑہ میں اسکول میں دو طالبعلموں کی خودکشی کے معاملے پرایک اور خط منظر عام پر آگیا۔

خودکشی کرنے والے میڑک کے طالبعلم نوروز کا ایک اور خط سامنے آیا ہے، جس میں نوروز نے صبا عرف فاطمہ کو پستول لیکر آنے کا کہا، خط میں نوروز نے فاطمہ کو لکھا کہ کل  گن (پستول) لانا پلیز۔

خط کے متن کے مطابق پستول فاطمہ نوروز کے کہنے پر لائی جبکہ نوروز نے فاطمہ کو اپنی دی ہوئی انگوٹھی پہن کر آنے کی بھی تاکید کی تھی۔

واقعہ میں استعمال ہونے والی پستول فاطمہ کے والد بشیرعوان کی ملکیت ہے۔

پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ نوروز کا تعلق اسماعیلی برادری سے تھا جبکہ لڑکی کے اہلخانہ ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

فیس بک انتظامیہ کی جانب سے خود کشی کرنے والے 16 سالہ نوروز اور 15 سالہ فاطمہ کے فیس بک کے اکاؤنٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ہی نوروز نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ہی لکھ دیا تھا کہ ‘میں کل مر جاؤں گا’ ۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ کے نجی اسکول میں صبح سویرے دو لاشیں ملیں، دسویں کلاس کی پندرہ سالہ طالبہ صبا بشیر کو اس کے سولہ سالہ دوست نورالہدی نے گولی مار کر قتل کیا اور پھر خودکشی کرلی۔

منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے اسمبلی کی گھنٹی بجی اور پھر کلاس خالی ہونے کے بعد دو طالبعلموں نے باہمی رضامندی سے خودکشی کرلی، سولہ سالہ طالب علم نور الہدی نے مرنے سے قبل اپنے والد کو ایک خط لکھا، جسمیں لکھا تھا کہ ابو آپ کو مجھ سے محبت نہیں، اس لئے میری شادی پر آمادہ نہیں، اب دنیا چھوڑدینا ہی میرے لئے بہتر ہے۔

خود کشی سے قبل دونوں نے خطوط بھی چھوڑے تھے کہ ان کے والدین ان کی شادی نہیں کریں گے اس لیے وہ اپنی مرضی سے خود کشی کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق مرنے والوں کےنام نورالہدی اورصبا بشیرہیں جبکہ سوشل میڈیا اور خط میں ان کے نام نوروز اور فاطمہ ہیں، فیس بک پر نوروز نے ایک دن پہلے اپنی ٹائم لائن فوٹو میں یہ لکھ بھی دیا تھا کہ وہ کل مرنے والاہے، فیس بک پوسٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوروز کئی دنوں سے خودکشی کاسوچ رہا تھا اور اس سوچ نے ایک بھیانک حقیقت کا روپ دھار لیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top