site
stats
پاکستان

کراچی: ملیر کے متعدد علاقوں میں پینے کے پانی زہر یلا ہوگیا

کراچی : کراچی کے ضلع ملیر کے مختلف علاقوں میں صنعتوں سے نکلنے والے کیمیکلز پانی کی لائنوں میں داخل ہونے سے پینے کا پانی زہر یلا ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کے متعدد علاقوں میں پینے کے پانی کی پائپ لائنوں میں کیمیکل شامل ہونے کا انکشاف ہوا، فیکٹریوں سے خارج زہریلے کیمیکلز پینے کے پانی میں شامل ہورہے ہیں جبکہ ملیر کے کئی مقامات پر پینے کے پانی کی لائن میں سیوریج کا پانی بھی شامل ہورہا ہے۔

چیئرمین میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ گلشن قادری اور دیگر علاقوں سے شکایات موصول ہوئی ہیں، فیکٹریوں کا زہر یلا مواد پانی میں شامل ہورہا ہے۔

جان محمد بلوچ کے مطابق ایم ڈی واٹر بورڈ نے وعدہ کیا کہ وہ سیوریج کا مسئلہ حل کریں گے اور نہ ہی فیکٹریوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگے۔


مزید پڑھیں : کراچی، پینے کے پانی میں انسانی فضلے کی آمیزش کا انکشاف


انھوں نے مزید کہا کہ واٹر بورڈ نے مسئلہ حل نہیں کیا تو احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

یاد رہے کہ  سندھ واٹر کمیشن میں جمع کرائی گئیں رپورٹ میں کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی میں انسانی فضلہ شامل ہونے کا لرزہ خیز انکشاف ہوا جس کے تحت شہرقائد میں پانی کے 33 فیصد نمونوں میں سیوریج کا پانی شامل ہے اور90 فیصد پانی پینے کیلیے نقصان دہ ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top