الطاف حسین کو غدار سمجھتا ہوں، وسیم اختر -
The news is by your side.

Advertisement

الطاف حسین کو غدار سمجھتا ہوں، وسیم اختر

کراچی : شہرِ قائد کے گرفتار میئر وسیم اختر نے جے آئی ٹی میں میں بیان دیا ہے کہ الطاف حسین کو غدار سمجھتا ہوں، الطاف حسین کو ایسی تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی۔

اسیر مئیر کراچی وسیم اختر سے سانحہ بارہ مئی اور بائیس اگست کی تقریر پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی سینٹرل جیل نے تفتیش کی، دوران تفتیش وسیم اختر نے بتایا کہ بارہ مئی دو ہزار سات کو بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور دہشتگردی کی اطلاع تھی اور یہ بھی اطلاع دی گئی سیاسی جماعتیں بھی ریلیاں نکالیں گی۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق وسیم اختر نے بتایا بارہ مئی دو ہزار سات کو افتخار چوہدری کی سیکیورٹی خود انہوں نےسپروائزکی تھی، یہ اطلاع دی گئی تھی کہ تصادم بھی ہوسکتا ہے

وسیم اختر نے بتایا کہ ہڑتال کامیاب بنانے کے لیے عوام کو خوفزدہ کیا جاتا تھا اور اس کام کے لیے مختلف یونٹس کے کارکنوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔


مزید پڑھیں : سانحہ 12 مئی کا چالان 9سال بعد پیش، وسیم اختر اقدام قتل میں نامزد


الطاف حسین کی تقریر کے حوالے سے دورانِ تفتیش وسیم اختر کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کو ایسی تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی، تقریرغلط ہونے کے باوجود کچھ نہیں کرسکتا تھا اسلئے خاموش رہا۔

یاد رہے کہ پولیس نے ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر کو 12 مئی سنہ 2007 کے ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں نامزد کیا تھا
کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر اس وقت صوبائی وزیر داخلہ تھے۔


مزید پڑھیں : وسیم اختر نے سانحہ بارہ مئی کی ذمہ داری قبول کرلی، ایس پی ملیر راؤ انوار کا دعویٰ


مئی 2007ء شہر قائد کی تاریخ کا خوفناک ترین دن تھا، چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر ہنگاموں میں وکلاء سمیت 50 افراد جان سے گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ 22 اگست کو ایم کیو ایم کے قائد کی اشتعال آمیز تقریر میں ملک مخالف نعرے لگوائے اور کارکنان کو میڈیا ہاؤسز پر حملے کیلئے اکسایا ، جس کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنان نے اے آروائی نیوز کے بیورو آفس اور پریس کلب پر دھاوا بول دیا تھا۔


مزید پڑھیں: فاروق ستار کا الطاف حسین اور لندن قیادت سے لاتعلقی کا اعلان


ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے قائد ایم کیو ایم اور لندن سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ایک لکیر کھینچ دی اور اب ہم خود مختار ہیں، اب تمام الفاظ اور نیت سب ہمارے ہی ہوں گے کسی کو شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں