The news is by your side.

Advertisement

کراچی : نائن زیرو ، مکاچوک اور اطراف سے ایم کیو ایم قائد کی تصاویر ہٹا دی گئیں

کراچی : شہر قائد اور حیدر آباد میں مائنس الطاف حسین کی لہر چل پڑی، کراچی میں ایم کیو ایم کے گڑھ نائن زیرو سمیت کئی علاقوں سے قائد ایم کیو ایم کی تصاویر اور بینرز ہٹا دیئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم قائد کی ملک مخالف تقریر کے اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر پر حملوں کے بعد عوام نے سخت ردعمل کا اظہار کیا، جس کے بعد ایم کیو ایم کے گڑھ سمیت شہر بھر سے متحدہ قائد کی تصاویر ہٹانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔


 مزید پڑھیں : متحدہ کے قائد نے اختیارات’ رابطہ کمیٹی‘ کےسپرد کردیے


ایم کیو ایم قائد کے گھر ، مکا چوک ، جناح گراؤنڈ اور اطراف کے علاقوں لیاقت آباد، عائشہ منزل،حسین آباد اور فیڈرل بی ایریا سے قائد ایم کیوایم کی تصاویر ہٹا دی گئیں جبکہ جو تصاویر چسپاں تھیں، انہیں پھاڑ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب حیدر آباد اور لطیف آباد میں بھی قائد ایم کیو ایم کی تصاویر ہٹا دی گئی ہیں۔

ایم کیو ایم آزاد کشمیر میر پور زونل آفس سے پارٹی کے سائن بورڈ اتاردیئے اور قائد ایم کیو ایم کی تصاویر بھی ہٹادی گئی ہے جبکہ دفتر کو تالا لگا کر تمام تنظیمی سرگرمیاں معطل کردی ہے۔


 مزید پڑھیں :  ایم کیو ایم کے یونٹ اور سیکٹرآفس پر تالے ڈال دیے گئے


اس سے قبل ایم کیو ایم قائد کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف سیکٹر اور یونٹ آفیسز میں تالے ڈال دیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد،لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا میں ایم کیو ایم دفاتر سیل کئے گئے ہیں نیٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیوایم دفاتر کے باہر نوٹس چسپاں کردیئے ہیں ۔ جس میں بغیر اجازت دفاتر کھولنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے احکامات درج ہیں۔


 مزید پڑھیں : کراچی: ایم کیو ایم کارکنان کا اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ


واضح رہے کہ 22 اگست کو قائد ایم کیوایم نے کراچی پریس کلب کے باہر متحدہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور اس دوران پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگوائے تھے ، جس کے بعد ڈنڈے اٹھائے کارکن زینب مارکیٹ کے قریب اے آروائی کے بیورو آفس پر جمع ہوئے اور پتھراؤ کرکے شیشے توڑ ڈالے اور پھر بے قابو ہجوم دروازہ توڑ کر دفتر میں گھس گیا، اے آر وائی کے دفتر میں پہلے خواتین داخل ہوئیں اور ان کے پیچھے دیگر مسلح افراد آگئے، غنڈوں نے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا، کمپیوٹر توڑ ڈالے اور گارڈ سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں