The news is by your side.

Advertisement

دہشتگردوں کے بجائے کارکنان کی گرفتاری کا نوٹس لیا جائے، ایم کیو ایم

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اورسپریم کورٹ کے چیف جسٹس انورظہیر جمالی سے اپیل کی ہے کہ وہ حقائق کی روشنی میں اس بات کی تحقیقات کرائیں کہ قانون نافذ کرنے والے بعض ادارے کن مقاصد کے تحت کراچی آپریشن کے دوران اصل مجرموں اور دہشت گردوں کو بچاکر ہرخرابی کاالزام ایم کیوایم اور اس کے کارکنوں پر عائد کررہے ہیں۔

ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کچھ عرصہ قبل دہشت گردوں نے جامعہ کراچی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر شکیل اوج کو گولیاں مارکرقتل کردیا تھا جس کے بعد القاعدہ برصغیر نے ایک اخباری اوروڈیو بیان کے ذریعہ اس قتل کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

پروفیسر شکیل اوج کے اپنے بیٹے نے بھی میڈیا پر آکر یہ بیان دیا کہ ان کے والد کو جامعہ کراچی کی ایک مذہبی طلبا تنظیم اور بعض دیگر مذہبی جنونیوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور ایم کیوایم کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیوایم کے متعدد کارکنوں کو گرفتارکرکے اس قتل کا الزام بھی زبردستی ایم کیوایم پر ڈالنے کی کوشش کی ۔

بعدازاں کراچی پولیس کے ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے میڈیا پر آکر یہ بیان دیا کہ گرفتارملزمان کا تعلق ایم کیوایم سے ہے اور انہوں نے اس قتل کا اعتراف بھی کرلیا ہے ۔اسی طرح جامعہ کراچی کے ایک اور استاد پروفیسر وحید الرحمان  کے قتل کے بعد اس واردات کا الزام بھی بناء کسی تحقیقات کے ایم کیوایم پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اے پی ایم ایس او اور ایم کیوایم کے متعدد کارکنوں کو گرفتارکرکے انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاگیا ۔

میڈیا پر یہ خبریں چلوائی گئیں کہ ان وارداتوں میں ایم کیوایم ملوث ہے جبکہ وہ کالعدم مذہبی تنظیمیں جو ان اساتذہ کرام کو دھمکیاں دے رہی تھیں ان کا تذکرہ سرے سے گول کردیا گیا۔

رابطہ کمیٹی نے کہاکہ وزیراعظم ، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور بالخصوص آرمی چیف کو اس بات کی تحقیقات کروانی چاہیئے کہ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو کالعدم مذہبی انتہاء پسند گروپوں کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر آنکھیں بند کرکے ہرخرابی کا الزام صرف اور صرف ایم کیوایم پر عائد کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور اس طرح کراچی آپریشن کو ناکام اور متنازعہ بنارہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں