جمعہ, مارچ 13, 2026
اشتہار

’کراچی ناردرن بائی پاس منصوبے کو وفاقی ترقیاتی بجٹ سے فنڈ کیا جائے‘

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (10 فروری 2026): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کراچی ناردرن بائی پاس پروجیکٹ کو وفاقی ترقیاتی بجٹ سے منسلک کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت ہوا جس میں قومی خزانے میں 80 ارب کی بچت کا فارمولہ بتایا گیا جبکہ کراچی ناردرن بائی پاس پروجیکٹ کو 6 لین کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

قائمہ کمیٹی نے تجویز دی کہ کراچی ناردرن بائی پاس پروجیکٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے ختم اور اسے وفاقی ترقیاتی بجٹ سے فنڈ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ”ناردرن بائی پاس پر ہیوی ٹریفک کی جگہ چنگ چی رکشے چل رہے ہوتے ہیں“

مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ کورین ایگزم بینک نے منصوبے کی لاگت 168 ارب روپے بتائی ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ سے یہ 88 ارب میں مکمل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ناردرن بائی پاس ایم 10 منصوبہ کراچی کا اہم ترین پروجیکٹ ہے، کورین ایگزم بینک منصوبہ 40 سال کے قرض سے فنڈ کرنا چاہتا ہے، وہ 40 سال میں سالانہ ایک فیصد سود بھی وصول کرے گا، ایم 10 منصوبہ ہنگامی طور پر حیدر آباد سکھر موٹروے سے منسلک کیا جانا ضروری ہے، منصوبے کی تعمیر نہ ہونے سے بندرگاہ کی تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

قائمہ کمیٹی اقتصادی امور نے کراچی کیلیے کے فور منصوبے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کر دیا۔

رکن شہلا رضا نے کہا کہ کے فور ترقیاتی منصوبہ 2009 سے سنتے سنتے کان پک گئے ہیں، منصوبے میں آئے دن نت نئے اعتراضات اور رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور حکومت میں کراچی کیلیے کے فور منصوبے کو ختم کر دیا گیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں