کراچی (18 جون 2026): محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کراچی میں مبینہ پین بم دھماکے کی تحقیقات میں اصل محرکات سامنے آگئے۔
تحقیقاتی ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ نوجوان کو پین بم نہیں ملا تھا اس نے جھوٹ بولا، وہ اپنے کزن کی سالگرہ کی تقریب کیلیے پٹاخہ لایا تھا، پٹاخہ چلانے کے دوران ہاتھ میں پھٹ جانے کے باعث وہ زخمی ہوا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق پٹاخہ سالگرہ کی تقریب کیلیے خریدا گیا تھا، واقعہ ماڈل کالونی ریلوے ٹریک کے قریب باڑے میں پیش آیا۔
واقعے کی وڈیو تحقیقاتی ٹیم نے حاصل کر لی جو زخمی نوجوان کے کزن کے موبائل سے ریکارڈ کی گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی نوجوان کے ہاتھ میں پٹاخہ پھٹا۔
واقعے کا پس منظر
گزشتہ روز ماڈل کالونی کے قریب سڑک کنارے ملنے والی چمکتی ہوئی پین نما مشتبہ شے ہاتھ میں پھٹنے کے نتیجے میں نوجوان زخمی ہوگیا تھا۔
متاثرہ نوجوان کی شناخت عبدالسمیع کے نام سے ہوئی۔ پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں اس نے بتایا کہ وہ ملیر سے گزر رہا تھا کہ اسے سڑک کے کنارے ایک چمکتی ہوئی پین نما چیز ملی، تجسس کے باعث جیسے ہی اس نے اس مشتبہ چیز کو اٹھا کر دبایا، وہ اچانک زوردار دھماکے سے پھٹ گئی، جس سے اس کے ہاتھ پر شدید زخم آئے۔
عبدالسمیع ماڈل کالونی کے قریب ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں ملازمت کرتا ہے اور نیو کراچی کا رہائشی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے اسپتال پہنچ کر زخمی نوجوان اور اس کی والدہ کا بیان قلمبند کیا۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے مطابق شہری کے ہاتھ کی ایک طرف گہرا کٹ (زخم) ہے اور انگلی پر فریکچر آیا ہے۔


