کراچی (19 جولائی 2026): کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ایک ارب روپے مالیت کے کمرشل اور رہائشی پلاٹوں کی مبینہ جعلی الاٹمنٹ، غیر قانونی ملکیت کی منتقلی اور ریکارڈ میں ردوبدل کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد ڈی جی کے ڈی اے نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے 8 قیمتی پلاٹوں میں مبینہ جعل سازی کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ کو متعلقہ پلاٹوں کا ریکارڈ فوری طور پر سیل کر کے 15 روز کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تحقیقات کے دائرہ کار میں گلستانِ جوہر، سرجانی ٹاؤن، ایف بی ایریا اور گلشنِ اقبال کے پلاٹس شامل ہیں۔ ان میں گلستانِ جوہر اسکیم 36 کا پلاٹ نمبر SB-02، بلاک 6 کے پلاٹ نمبر B-70 اور A-104، بلاک 7 کا پلاٹ نمبر B-159، سرجانی ٹاؤن سیکٹر 11-A کا پلاٹ نمبر SB-157، سیکٹر 6-C کا پلاٹ نمبر SB-155، ایف بی ایریا بلاک 7 کا پلاٹ نمبر BS-57 اور گلشنِ اقبال بلاک 10 کا پلاٹ نمبر ST-8/5 شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کے دوران پلاٹوں کی الاٹمنٹ، لیز، ملکیت، غیر قانونی منتقلی، ریکارڈ میں ردوبدل، موجودہ ملکیت اور قبضے کی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا ریکارڈ میں ہیرا پھیری ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سرجانی ٹاؤن میں مبینہ بوگس فائل اور جعلی آکشن کے ذریعے 875 گز سے زائد رقبے پر مشتمل کمرشل پلاٹ غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے کا بھی الزام سامنے آیا ہے، جسے بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب کے ڈی اے کے بعض افسران نے محکمہ لینڈ کو ہی انکوائری سونپنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جب کہ سینئر افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتی پلاٹوں کے اس مبینہ اسکینڈل کی تحقیقات نیب اور ایف آئی اے جیسے آزاد اداروں سے کرائی جائے۔


