The news is by your side.

Advertisement

مشہور شعرا کے لوحِ مزار پر درج انہی کے اشعار

قبرستان میں‌ ہمیں کتبوں‌ پر دنیا کی بے ثباتی اور یہاں‌ سے ہمیشہ کے لیے کُوچ کر جانے والوں‌ کے لیے جذبات میں‌ گندھے اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں جو اکثر اردو کے مشہور و معروف شعرا کا کلام ہوتا ہے۔

اس دنیا سے سبھی کو ایک دن چلے جانا ہے۔ جن شعرا کا کلام ان کی زندگی میں ان سے پہلے دنیا سے رخصت ہوجانے والوں کے کتبوں پر سجا، خود ان شعرا کی موت کے بعد وہی شعر ان کے لوحِ مزار پر بھی لکھ دیا گیا۔ یہاں‌ ہم اُن شاعروں کا ذکر کررہے ہیں‌ جو کراچی میں‌ مدفون ہیں‌ اور ان کے لوحِ مزار پر انہی کا شعر لکھا ہوا ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر حفیظ ہوشیار پوری کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں محوِ خواب ہیں۔

ان کے لوحِ مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:

سوئیں گے حشر تک کہ سبک دوش ہوگئے
بارِ امانتِ غمِ ہستی اُتار کے

نام وَر نقاد اور شاعر سلیم احمد کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، ان کی قبر کے کتبے پر ان کا یہ شعر کندہ ہے:

اک پتنگے نے یہ اپنے رقصِ آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیے، روشنی بن جائیے

اردو کے معروف اور صاحبِ طرز شاعر سراج الدین ظفر کراچی میں گورا قبرستان کے عقب میں مسلح افواج کے قبرستان میں دفن ہیں.

ان کے لوحِ مزار پر ان کا یہ شعر رقم کیا گیا ہے:

ظفر سے دُور نہیں ہے کہ یہ گدائے الست
زمیں پہ سوئے تو اورنگِ کہکشاں سے اٹھے

استاد قمر جلالوی کا شمار اردو غزل کے چند نام ور شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ کلاسیکی رنگ میں شعر کہنے کے فن کے استاد تھے، ان کا ایسا ہی ایک شعر ان کی قبر کے کتبے پر بھی کندہ ہے جو کراچی میں علی باغ کے قبرستان میں واقع ہے۔

وہ شعر یہ ہے:

ابھی باقی ہیں پتّوں پر جَلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے، بجلی گری تھی جب گلستاں پر

اطہر نفیس جدید اردو غزل کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں دفن ہیں۔

ان کی لوح مزار پر انہی کا شعر تحریر ہے:

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچّا شعر سنائیں کیا

(پروفیسر محمد اسلم کی کتاب ”خفتگانِ کراچی“ سے انتخاب)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں