جمعرات, اگست 13, 2026
اشتہار

’ہم عامر کی والدہ کی دوائیں لینے جا رہے تھے، بھانجی بھی ساتھ تھی، پولیس نے فائرنگ کر دی‘

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: گلستان جوہر میں پولیس کی شاہین فورس کی فائرنگ سے ایک نوجوان عامر حسین کی ہلاکت کے واقعے میں خوش قسمتی سے بچ جانے والے دوست نے واقعے کے حوالے سے اہم بیان دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ایک طرف ڈاکوؤں کے ہاتھوں شہری قتل ہو رہے ہیں، دوسری طرف خود پولیس اہل کار بھی شہریوں کو سر راہ گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے حوالے کر رہے ہیں۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پیش آنے والے ایک اور افسوس ناک واقعے میں شاہین فورس کے اہل کاروں نے ثابت کیا کہ نہ وہ کسی قانون کو خاطر میں لاتے ہیں نہ پولیس کی تربیت کے اصولوں کو، اس واقعے میں پولیس اہل کاروں نے ایک چار سالہ بچی کے سامنے ایک نوجوان کو بے دردی سے گولی مار کر قتل کیا۔

بچی کے سامنے جعلی مقابلے میں عامر کی ہلاکت، دل دہلا دینے والی فوٹیجز سامنے آ گئیں

واقعے کے وقت کیا ہوا تھا؟ پولیس نے نوجوانوں کا پیچھا کیوں کیا؟ اس حوالے سے مقتول عامر حسین کے دوست حمید کا بیان سامنے آ گیا ہے، حمید کا کہنا ہے کہ ہم ساتھ تھے، اور ہمارے ساتھ میری 4 سالہ بھانجی بھی تھی، اور ہم عامر کی والدہ کی دوائیں اس کے بھائی کے گھر سے لینے جا رہے تھے۔

حمید نے بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ پولیس اہل کاروں نے لال فلیٹ کے قریب رکنے کا اشارہ کیا، تو ہم جلدی میں نہیں رکے، جس پر پولیس نے پیچھا کر کے پہلے مجھ پر فائرنگ کی، لیکن میں بھاگ گیا۔

حمید کے بیان کے مطابق پولیس نے عامر حسین پر بھی گولیاں چلائیں، پہلے عامر کو ٹانگ پر اور پھر کمر پر گولی ماری گئی، جس سے وہ فلیٹوں کے سیڑھیوں پر گر گیا، اور بعد ازاں مر گیا۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔

مزید خبریں