The news is by your side.

Advertisement

پولیس مقابلے میں ہلاک ڈرائیور عباس سے متعلق مالکان کا انکشاف

کراچی: لیلیٰ پروین اور علی حسنین نے مبینہ ملزم عباس کے پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کے ہاتھوں ہلاک ڈرائیور عباس کی مالکن لیلیٰ پروین نے آج جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عباس کی لاش پر تشدد کے نشانات ہیں، عباس کو گرفتاری کے بعد تشدد کیا گیا اور پھر قتل کیا گیا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ یہ کیسا مقابلہ ہے جس میں ڈاکو پر تشدد کے نشانات ہیں؟

لیلیٰ پروین کے شوہر وکیل علی حسنین نے کہا کہ پولیس کی عدالت میں دی گئی رپورٹ میں بھی تضاد ہے، پولیس کی کارروائی پر شک نہیں ہوتا اگر ثبوت نہیں مٹائے جاتے، ہم پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس پر مقدمہ درج کروائیں گے۔

ڈیفنس میں پولیس مقابلہ اصلی یا جعلی، عباس کا دوبارہ پوسٹ مارٹم

لیلیٰ پروین نے کہا کہ عباس کے خلاف پولیس کے پاس کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں تھا، عباس کو پولیس نے مارا اور تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا، پولیس نے اسے فوری طبی امداد نہیں دی، پولیس کا دعویٰ ہے عباس مقابلے میں مارا گیا، لیکن مقابلے میں ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے ڈاکو کو پکڑا اور اس کی ہڈیاں توڑ دی گئیں۔

ادھر عباس کے بھائی رزاق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مقتول عباس کی 2 بیویاں اور 4 بچے ہیں، حکومت عباس کے بچوں اور بیوی کا خرچہ برداشت کرے۔

واضح رہے کہ آج جناح اسپتال میں 27 نومبر کی صبح گزری تھانے کی حدود پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے مبینہ ملزم عباس کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے، جس کی رپورٹ ابھی جاری نہیں کی گئی ہے، یہ پوسٹ مارٹم لیلیٰ پروین اور علی حسنین کی درخواست پر کی گئی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ پولیس مقابلہ جعلی تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں