کراچی: تھانہ پاک کالونی کیس پراپرٹی کی موٹر سائیکلیں بیچنے میں ملوث نکلا -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: تھانہ پاک کالونی کیس پراپرٹی کی موٹر سائیکلیں بیچنے میں ملوث نکلا

کراچی: پولیس کی نگرانی میں موجود کیس پراپرٹی بھی محفوظ نہیں، تھانہ پاک کالونی سے کیس پراپرٹی کی موٹر سائیکلیں چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک کالونی کا تھانہ کیس پراپرٹی کی موٹر سائیکلیں بیچنے میں ملوث نکلا، سی آئی نے تحقیقات شروع کر دیں، تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا۔

اینٹی کار لفٹنگ سیل نے پاک کالونی میں ایک گودام پر چھاپا مار کر کیس پراپرٹی کی 100 موٹر سائیکلیں برآمد کیں، گودام کا مالک بھی گرفتار کر لیا گیا۔

موٹر سائیکلوں کے پرزے خریدنے والے کباڑیے نے بتایا کہ وحید نامی شخص کو سامان پولیس اہل کار نے بیچا

موٹر سائیکلوں کی چوری کا مقدمہ اے سی ایل سی تھانے میں درج کر دیا گیا۔ گودام کے مالک نے بتایا کہ وحید نامی شخص تھانہ پاک کالونی سے موٹر سائیکلیں لا کر بیچتا تھا۔

ڈی آئی جی سی آئی اے نے ایس ایچ او پاک کالونی کو معطل کر کے انکوائری شروع کر دی، انھوں نے کہا کہ معطل ایس ایچ او اور اہل کاروں کو شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔

ڈی آئی جی امین یوسف کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اہل کار یا افسر کیس میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ چوری ہونے والی 53 موٹر سائیکلوں کے ریکارڈ مل چکے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:  کالی بھیڑوں کو سنبھلنے کا بہت موقع فراہم کیا، کراچی پولیس چیف


ڈی آئی جی نے کہا کہ چوری شدہ موٹر سائیکلیں برآمدگی کے بعد تول کر بیچی گئیں، موٹر سائیکلوں کے پرزے خریدنے والا کباڑیا بھی گرفتار ہو چکا ہے۔

امین یوسف کا کہنا تھا کہ کباڑیے نے کہا ہے کہ اسے سامان وحید نے بیچا، کباڑیے نے مزید بتایا کہ وحید کو سامان پولیس اہل کار نے بیچا، وحید نے 9 لاکھ میں اسپئر پارٹس خریدے۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل آئی جی سندھ ڈاکٹر امیر شیخ نے محکمۂ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کے اندر کالی بھیڑوں کو سنبھلنے کا بہت موقع فراہم کیا گیا، اب ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں