murder پولیس رویے سے دلبرداشتہ ایک اورباپ نے سپریم کورٹ سے انصاف مانگ لیا
The news is by your side.

Advertisement

پولیس رویے سے دلبرداشتہ ایک اورباپ نے سپریم کورٹ سے انصاف مانگ لیا

کراچی : انتظار قتل کیس کے بعد ایک اور مقتول کے خاندان نے پولیس کے رویے سے دلبرداشتہ ہوکر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، عمرنامی نوجوان کو بھی ڈیفنس میں گولیاں مار کرقتل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کے رویے سے دلبراشتہ ایک اور خاندان نے سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا، مقتول کے والد کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ میرے19سال کے بیٹے عمرکو رواں سال 9 جنوری کو ڈیفنس فیز8میں قتل کیا گیاتھا۔

قاتلوں نے واردات میں آٹومیٹک ہتھیار استعمال کئے تھے، انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر میں 12 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا لیکن پولیس نے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کسی ایک ملزم کو بھی گرفتارنہیں کیا اور نہ ہی مذکورہ کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔

مقتول عمر کے والد نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا شاہ رخ جتوئی، نقیب اللہ قتل کیس کی طرح نوٹس لے، ان کا مزید کہنا ہے کہ کیس کے اندراج پر مجھے اور بھتیجے کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، ہمیں تحفظ فراہم کیاجائے۔

اس حوالے سے متعلقہ تفتیشی افسر نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ عمر قتل کیس میں ملوث تمام ملزمان کی لوکیشن چاغی کی آرہی ہے کیونکہ تمام ملزمان واردات کے بعد بلوچستان فرار ہوگئے تھے۔

افسر کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس بھرپور کوششیں کررہی ہے، تفتیشی ٹیم نے اطلاع ملنے پر لاہور کے ایک علاقےمیں چھاپہ بھی مارا تھا تاہم اس وقت کوئی گرفتاری نہیں عمل میں نہیں آسکی۔

پولیس کے مطابق قتل میں ملوث بیشتر ملزمان مقتول کے قریبی عزیز ہیں، واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ بھی ہوسکتا ہے، واردات کی مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں