The news is by your side.

کراچی پولیس تجاوزات کے کسی آپریشن میں حصہ نہ لے، ہدایت جاری

کراچی : پولیس کے اعلی ٰافسر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ تجاوزات کے کسی آپریشن میں حصہ نہ لے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع انتظامیہ کے خط پر کراچی پولیس کو تجاوزات کے کسی آپریشن میں حصہ لینے روک دیا گیا۔

چند روز قبل غازی گوٹھ میں انکروچمنٹ آپریشن ہوا تھا، جس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پولیس اور رینجرز کو آپریشن میں مدد کے لیے خط لکھا گیا۔

آپریشن کے دوران صورتحال خراب ہوئی تو پولیس کی جانب سے شیلنگ بھی کی گئی اور مبینہ پولیس تشدد سے تین سے چار خواتین زخمی ہوئیں۔

اس دوران مبینہ طور پرمظاہرین میں شامل شرپسند عناصر کی جانب سے گولیاں چلائی گئی، جس سے دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر وزیراعلی سندھ کی جانب سے سخت نوٹس لیا گیا، جس کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کے خلاف تحقیقات شروع کرتے ہوئے فوری طور پر ڈی سی ایسٹ نے ایس ایس ایچ او اینٹی انکروچمنٹ سمیت پانچ اعلی افسران ، ایس ایچ او سچل اور ڈی ایس پی سچل کو معطل کردیا۔

ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ پولیس رینجرز کو لکھے گئے خط سے مکرگئی اور تحقیقاتی کمیٹی بھی صرف کراچی پولیس کو ذمہ دار ٹہراتی رہی اور ساتھ ہی اے ڈی سی، اے سی، تپ دار، مختیار کار اور ایس ایچ او اینٹی انکروچمنٹ کو کلین چٹ دینے کی کوشش کی جارہی ہے

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کے بعد ڈی ایس پی سچل اور ایس ایچ او سچل کو قربانی کا بکرا بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور سارا الزام ڈسٹرکٹ پولیس پر آنے کے بعد پولیس کا مورال ڈاون ہوا۔

جس کے بعد معاملے پر پولیس کی جانب سے اعلی سطح پر مشاورت کی گئی اور کراچی پولیس کے متعلقہ افسران کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی کہ پولیس انکروچمنٹ آپریشن سے انکار کر دے اور آپریشن کا خط ملنے پر پولیس پہلے محکمہ داخلہ سے رابطہ کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں