کراچی: پولیس اہل کار کی جانب سے لڑکیوں کی ویڈیو بنانے پر ہنگامہ، آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: پولیس اہل کار کی جانب سے لڑکیوں کی ویڈیو بنانے پر ہنگامہ، آئی جی سندھ نے نوٹس لے لیا

کراچی: شہرِ قائد میں پولیس اہل کار کی جانب سے راہ چلتی لڑکیوں کی ویڈیو بنانے کی کوشش پر لڑکیوں کی پولیس موبائل میں بیٹھے اہل کار سے تلخ کلامی ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے سخی حسن چورنگی پر پولیس موبائل میں بیٹھے اہل کار نے راہ چلتی لڑکیوں کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی جس پر لڑکیوں نے ہنگامہ کر دیا۔

ناظم آباد ڈگری کالج سے ایڈمٹ کارڈ لے کر آ رہے تھے، پولیس موبائل میں بیٹھے اہل کاروں پر ویڈیو بنانے کا شک ہوا۔

متاثرہ لڑکی

لڑکیوں کی پولیس اہل کار سے تلخ کلامی پر شہری جمع ہو گئے، لڑکیوں کے والدین بھی آ گئے، جس کے بعد رینجرز اہل کار بھی موقع پر پہنچ گئے۔

متاثرہ لڑکی نے کہا کہ وہ ناظم آباد ڈگری کالج سے ایڈمٹ کارڈ لے کر آ رہے تھے، پولیس موبائل میں بیٹھے اہل کاروں پر ویڈیو بنانے کا شک ہوا۔

متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اہل کاروں سے موبائل فون مانگا تو انھوں نے دکھانے سے انکار کر دیا، اہل کار نے موبائل دیا تو ہماری ویڈیو موجود تھی جسے ڈیلیٹ کر دیا۔

متاثرہ لڑکیوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہل کار نے ہراساں بھی کیا، اور پھر معافیاں بھی مانگنے لگا۔ دوسری طرف ایس ایچ او شارع نور جہاں نے کہا کہ لڑکیوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔


یہ بھی پڑھیں:  کراچی سنٹرل پولیس آفس میں گٹکا کھانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ


دریں اثنا شاہراہ نور جہاں تھانہ کی حدود میں پولیس موبائل پر موجود اہل کار کا کالج طالبات کی مبینہ ویڈیو بنانے اور نازیبا حرکات کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے انتہائی سخت نوٹس لے لیا۔

انھوں نے ایس ایس پی سینٹرل سے واقعے کی مکمل انکوائری اور مجموعی محکمانہ اقدامات پر مشتمل رپورٹ فی الفور طلب کرتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ غیر جانب دارانہ اقدامات کے ذریعے نہ صرف حقائق کو سامنے لایا جائے بلکہ مرتکب پائے جانے والے اہل کار سمیت اس کے سپروائژری افسر کے خلاف بھی قواعد اور ضوابط کے مطابق کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں