کراچی(3 مارچ 2026): امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے پرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے معاملے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈاکس میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے پرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے معاملے پر پولیس نے سرکار کی مدعیت میں 3 مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ان مقدمات میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی، ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق ایک مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی تھی جس میں 150 سے 200 افراد شریک تھے۔ مظاہرین میں سے کچھ افراد قونصل خانے کی حدود میں گھس گئے اور وہاں توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ آگ لگانے کی کوشش کی۔ ہجوم میں شامل چند مسلح عناصر نے فائرنگ بھی کی جس پر صورتحال پر قابو پانے کے لیے مزید نفری طلب کی گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی امریکی قونصل خانہ واقعے پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ہدایت، جے آئی ٹی تشکیل
مقدمے کے متن کے مطابق شرپسندوں نے قونصل خانے کے قریب واقع ٹریفک پولیس چوکی کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں 2 ایس ایم جیز، 3 نائن ایم ایم پستول، ایک سرکاری گاڑی اور بلٹ پروف جیکٹ سمیت دیگر سامان جل گیا۔ احتجاج کے دوران ملزمان نے پولیس کی بکتر بند گاڑی کو بھی نذر آتش کر دیا۔
اس واقعے کے بعد آئی جی سندھ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ایس ایس پی کیماڑی سمیت 5 افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی میں غفلت اور لاپرواہی برتنے پر دیگر سینئر افسران کے خلاف بھی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی قونصلیٹ پر احتجاج کے دوران 9 افراد کی لاشوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے، سول اسپتال ٹراما سینٹر کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 45 افراد کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
جاں بحق افراد میں کاظم مبارک، کاظم حسین زیدی، عدیل، ساجد علی، خاور عباس، محمد علی اور نامعلوم شخص شامل ہیں۔ فائرنگ کے بعد 36 زخمیوں کو بھی اسپتال منتقل کیا گیا، زخمی اور جاں بحق افراد کی عمریں 18 سے 50 سال کے درمیان ہیں۔ اسپتال کے مطابق تمام افراد فائرنگ سے جاں بحق یا زخمی ہوئے تھے۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہنگامہ آرائی، فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


