پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

خودکشی کی شرح : عام افراد کی نسبت ڈاکٹروں کی تعداد دگنی ہونے کا انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : پاکستانی ڈاکٹرز میں شدید ذہنی دباؤ اور خطرناک تھکن کے باعث دل کے امراض اور خودکشی کی شرح دگنی ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی طبی فورم کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹر خطرناک حد تک ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن کا شکار ہو چکے ہیں، جس کے باعث ان میں دل کے امراض اور خودکشی کی شرح عام افراد کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہے۔

کراچی میں ڈاکٹروں کی صحت سے متعلق منعقدہ ایک کانفرنس میں ماہرین نے بتایا کہ طویل ڈیوٹیز، غیر صحت مند طرزِ زندگی اور مسلسل ذہنی دباؤ ڈاکٹروں کو تیزی سے مختلف بیماریوں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر ریحان عمر نے کہا پاکستان میں تقریباً 60 فیصد ڈاکٹر شدید ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار ہیں، جبکہ ڈاکٹروں میں خودکشی کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں دل کی بیماریوں کے باعث ہر سال تقریباً 21 ملین افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، اور ڈاکٹروں میں یہ خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ماہر نفسیات ڈاکٹر کلثوم حیدر کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق نفسیاتی امراض میں خودکشی دنیا میں موت کی تیسری بڑی وجہ بن چکی ہے۔

کانفرنس میں شریک ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر ڈاکٹر اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال نہیں رکھیں گے تو اس کے اثرات پورے صحت کے نظام پر مرتب ہوں گے، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

+ posts

انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں

اہم ترین

انور خان
انور خان
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں