The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں‌ ریسکیو ورکرز نے مثال قائم کر دی، خاتون کی بچوں سمیت خود کشی کی کوشش ناکام

کراچی: شہر قائد میں ریسکیو ورکرز نے مثال قائم کرتے ہوئے خاتون کی بچوں سمیت خود کشی کی کوشش ناکام بنا دی، علی حسن اور شہریار نے بروقت قدم اٹھاتے ہوئے چھوٹی بچیوں سمیت 4 قیمتی جانیں بچا لیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کے دن کراچی میں نیٹی جیٹی پل سے ایک خاتون نے تین بچوں سمیت پانی میں چھلانگ لگا دی تھی، جس پر پورٹ گرینڈ پر بیٹھی فیملیز نےشور مچا دیا، شور سن کر پورٹ گرینڈ انتظامیہ کی ریسکیو ٹیم نے چاروں کو بچا لیا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اے آر وائی نیوز نے حاصل کر لی تھی، فوٹیج میں خاتون کو بچوں کے ساتھ چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا، پولیس کا کہنا تھا کہ خاتون نے گھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر بچوں سمیت چھلانگ لگائی تھی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام شام رمضان میں خاتون اور بچوں کی جان بچانے والے ریسکیو ورکرز علی حسن اور شہریار کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، علی حسن نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کراچی میں نیٹی جیٹی پل ایک ایسی جگہ ہے جہاں آئے دن خود کشی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، کبھی کبھی گرنے کے حادثات بھی پیش آتے ہیں۔

علی حسن نے بتایا کہ حادثے والے دن ہم نیچے افطاری کر رہے تھے اور یہ خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ اوپر موجود تھی، اچانک ہمارے پیچھے سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں، کہ پانی میں خاتون بچوں سمیت کود گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ہم چار لڑکے تھے، ہم نے فوری طور پر بوٹ اسٹارٹ کی اور 18 سیکنڈز کے اندر ہم ان تک پہنچے اور ماں اور دو بچوں کو فوری طور پر نکال لیا۔

دوسرے ریسکیو ورکر شہریار نے بتایا کہ ایک بچی شیرخوار تھی، چھ مہینے کی، خاتون نے بتایا کہ میری چھوٹی بچی بھی ہے، تو وہ کچھ فاصلے پر تھی، میں نے دیکھا کہ وہ الٹی ہو گئی تھی اور ڈوبنے والی تھی جب میں نے اسے نکال لیا۔

علی حسن نے بتایا کہ خاتون کو بچوں سمیت پانی میں کودنے اور ہمارے ریسکیو آپریشن میں ٹوٹل 48 سیکنڈز صرف ہوئے۔

ریسکیو ورکرز کے مطابق جب بچوں کو باہر نکالا گیا تو خواتین ریسکیو ورکرز نے بچوں کے پیٹ دبا کر اس سے پانی نکالا، اور اس طرح بر وقت ان کی جانوں کو بچایا گیا۔

ریسکیو ورکرز کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوئی ٹریننگ حاصل نہیں کی ہے، بس دیکھ کر اور لوگوں سے سیکھ کر ہنگامی طور پر اقدام کر لیتے ہیں۔

علی حسن کا کہنا تھا کہ جب بچوں کو نکالا گیا تو جسم میں پانی بھرنے سے ان کا رنگ نیلا ہونے لگا تھا۔

ریسکیو ورکرز نے کہا کہ حادثات تو ہوتے رہتے ہیں، لیکن سندھ حکومت کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کریں کہ لوگوں کو اپنی جانیں تلف کرنے کا موقع نہ ملے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں