The news is by your side.

Advertisement

پانی ہونے کے باوجود کراچی کے شہری بوند بوند کو ترس گئے

کراچی: واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی نا اہلی کے باعث کراچی کے شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہر میں پینے کا پانی دستیاب ہونے کے باوجود شہری بوند بوند کو ترس گئے، معلوم ہوا ہے کہ شہری واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی نا اہلی کے باعث پانی سے محروم ہیں۔

ملیر اور لیاقت آباد میں پانی کی ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں کی تاحال مرمت نہ ہو سکی، جس کے باعث لاکھوں گیلن پانی نہ صرف سڑکوں پر ضائع ہو رہا ہے بلکہ ملحقہ علاقوں میں پانی کی شدید قلت بھی پیدا ہو گئی ہے۔

دوسری طرف پانی سے محروم شہری مہنگے داموں پر خرید کر پانی پینے پر بھی مجبور ہیں، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں شکایت کے باوجود لائن کی مرمت نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی : واٹربورڈ کا انجینئر پانی چوری میں‌ ملوث، نوکری سے برطرف

یاد رہے کہ دو ماہ قبل واٹر بورڈ کے ایک انجینئر کو پانی چوری میں‌ ملوث ہونے پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا، انجینئر سعید شیخ نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔ تحریک انصاف کے اراکین سندھ اسمبلی نے شکایت کی تھی کہ سیعد شیخ اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر پانی چوری کر کے اُسے فروخت کر رہے ہیں۔

ادھر پانی چور مافیا نے نیا طریقہ نکالا تھا، نارتھ ناظم آباد میں واٹر بورڈ کی مین لائنوں پر لوہے کی پلیٹیں لگا کر علاقے کا پانی بند کر کے پانی چوری کیا جاتا تھا، چوری شدہ پانی کمرشل صارفین کو بیچا جاتا تھا، علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس سلسلے کو بے نقاب کیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں