کراچی میں سڑکوں پر کارپٹنگ یا مٹی ڈال کر انھیں اونچا کرنے سے اطراف کے مکانات زمین میں دھنس رہے ہیں، اس غیر سائنسی تعمیراتی عمل کی وجہ سے بارش اور نالیوں کا گندا پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔
شہر میں بلدیاتی ادارے سڑکوں کی ازسر نو تعمیر کی بہ جائے کارپٹنگ کر کے انھیں اطراف کی آبادی سے اونچا کر دیتے ہیں، جس کے باعث اردگرد کے مکانات اور گلیاں نسبتاً نیچے چلی گئی ہیں، جس سے مون سون کے موسم میں بارش کا پانی اطراف کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔
ناقص انفرا اسٹرکچر کے باعث آبادیاں ہر سال سیلابی پانی میں ڈوبنے کے دل خراش مناظر دکھاتی ہیں، اور شہریوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کراچی میں پیدل چلنے والوں کو اب فٹ پاتھ میسر نہیں، ویڈیو رپورٹ
ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط نقشہ بندی، ناقص پلاننگ اور نالوں میں اضافی پانی کی عدم نکاسی بارشوں کے موسم میں مکانات میں پانی کے داخل ہونے کی وجوہ ہیں۔ سڑکیں بناتے وقت پانی کے اخراج کا کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا جاتا۔ نئے ترقیاتی منصوبوں نے بھی نکاسئ آب کے تمام راستوں کو بلاک کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق تکنیکی طور پر مکانات زمین کے اندر نہیں دھنس رہے ہوتے، بلکہ سڑک کے اونچا ہونے سے یہ صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ کراچی کے وہ علاقے جہاں یہ مسئلہ سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے، اُن میں پی ای سی ایچ ایس، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گلشن، گلستان جوہر اور اندرون شہر کے قدیم علاقے شامل ہیں۔


