کراچی (19 فروری 2026): بے نمبری پولیس موبائل میں موجود اسپیشلائزڈ یونٹ کے سادہ لباس اہلکاروں نے دو دکانوں میں مبینہ ڈکیتی کی واردات کی۔
یہ واردات سرجانی ٹاؤن سیکٹر سیون سی میں کی گئی جس کی فوٹیج بھی اے آر وائی نیوز نے حاصل کر لی۔
سرجانی ٹاون سیکٹر 7 سی میں بے نمبری پولیس موبائل میں موجود اسپیشلائزڈ یونٹ کے سادہ لباس اہلکاروں نے شیخ پلاسٹک نامی اسٹور پر مبینہ ڈکیتی کی واردات کرتے ہوئے لاکھوں کا سامان اور کیش کاؤنٹر لوٹ لیا۔ متاثرہ دکاندار سرجانی تھانے گیا تو عملے نے پیٹی بند بھائیوں کے خلاف کارروائی سے بھی انکار کر دیا۔
متاثرہ دکاندار سے حاصل کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں سادہ لباس اہلکاروں کو دیکھا جاسکتا ہے جو گٹکا فروشوں پر چھاپے کی آڑ میں لوٹ مار میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔
مبینہ طور پر اہلکاروں نے پہلے ایک گٹکا فروش کی دکان پر چھاپہ مارا اور جاتے جاتے پان چھالیہ تمباکو کی دکان پر نظر پڑی تو رک گئے۔
کلاشنکوف اور بلٹ پروف پہنے اہلکار دکان کے اندر گھس گئے، مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ کیش اور لاکھوں کا دیگر سامان لوٹا اور بوریاں موبائل میں ڈال کر لے گئے۔
پولیس اہلکار جاتے جاتے دکان میں موجود کم عمر لڑکے کو بھِی ساتھ لے گئے، دکان سے آگے جا کر مزید گٹکا ماوا فروشوں کو اٹھایا گیا۔
متاثرہ دکاندارکے مطابق اس کی دکان سے جس لڑکے کو اٹھایا تھا اسے آگے جا کر اتار دیا، جبکہ دیگر تمام لوگوں کو گارڈن میں سی آئی اے کے دفتر لے گئے اور رات 4 بجے سب گٹکا فروشوں کو رشوت لے کر چھوڑ دیا لیکن میرا مال نہیں چھوڑا
دکاندار کا کہنا ہے ہم سوکھا پان، چھالیہ، تمباکو اور شاپنگ بیگ فروخت کرتے ہیں، میں کئی مرتبہ سرجانی تھانے گیا کہ مقدمہ درج کروایا جاسکے لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا آپ گارڈن سی آئی اے کے دفتر جاؤ۔
دکاندار کے مطابق لوٹ مار کرنے والوں میں اے ایس آئی وقاص شامل ہے۔ کالے کپڑوں میں حبیب اللہ اور کیش کاونٹر لوٹنے والے اہلکار کا نام سراج ہے۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


