The news is by your side.

Advertisement

منشیات فروشوں کو چھوڑنے پر 18 لاکھ رشوت لینے والے سچل پولیس افسران کے خلاف رپورٹ تیار

کراچی: منشیات فروشوں کو چھوڑنے کے لیے 18 لاکھ رشوت لینے والے سچل پولیس افسران کے خلاف رپورٹ تیار کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پولیس افسران بھی منشیات فروشی میں ملوث نکلے، ایک رپورٹ میں ثبوت مل گئے ہیں کہ ڈی ایس پی سچل علی حسن شیخ اور سابق تھانے دار ہارون کورائی منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں، اس سلسلے میں ایس ایس پی انویسٹیگیشن ایسٹ ون نے مس کنڈکٹ انکوائری رپورٹ تیار کر لی ہے۔

مس کنڈکٹ رپورٹ ڈی ایس پی سچل، سابق ایس ایچ او سچل اور گلستان جوہر کے اہل کاروں کے خلاف تیار کی گئی ہے، مذکورہ پولیس آفیشلز کے خلاف انکوائری میں ایڈیشنل آئی جی سے کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 15 اگست کو سچل میں پولیس نے منشیات فروش فرحان، مصری خان اور شاہد کو 16 کلو چرس کے ساتھ حراست میں لیا تھا، لیکن ڈی ایس پی سچل علی حسن اور سابق ایس ایچ او ہارون کورائی نے 18 لاکھ روپے رشوت کے عوض منشیات فروشوں کو رہا کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق 28 اگست کو شارع فیصل پولیس نے 2 پولیس اہل کاروں سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جن میں پولیس اہل کار حق نواز، مختیار اور ڈرگ ڈیلر سلیم شامل تھے، ان سے 8 کلو منشیات برآمد ہوئی تھی، پولیس اہل کار یونیفارم میں منشیات کی ڈیلنگ اور سپلائی کا کام کر رہے تھے۔

پولیس اہل کاروں نے دوران تفتیش اپنے ایک ساتھی پولیس اہل کار یاسین راجپر کا نام بھی لیا، جس کو گرفتار کیا گیا، یاسین راجپر ڈی ایس پی سچل کے پاس ڈیوٹی کرتا تھا، جب کہ ڈرگ ڈیلر سلیم اس سے قبل اے این ایف کے ہاتھوں 100 کلو چرس کے ساتھ گرفتار ہوا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سچل میں حراست میں لیے جانے والے منشیات فروشوں سے جو منشیات برآمد ہوئی تھی، یہ لوگ اسے فروخت کر رہے تھے، اس سلسلے میں منشیات کی ڈیلنگ ڈی ایس پی کا فرنٹ مین یاسین راجپر کر رہا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی اور تھانے دار کے حصے میں 8، 8 کلو چرس آئی تھی، جس کو ڈی ایس پی علی حسن شیخ اپنے فرنٹ مین کے ذریعے فروخت کروا رہا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں