سوشل میڈیا پر بلاتصدیق پوسٹ سے انتہا پسندی پھیل رہی ہے، ماہرین social media
The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا پر بلاتصدیق پوسٹ سے انتہا پسندی پھیل رہی ہے، ماہرین

کراچی: ماہرین اور اساتذہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بلا تصدیق پوسٹ سے انتہا پسندی کو فروغ مل رہا ہے، ضیا دور میں فسادات کے باعث کالعدم جماعتیں بنیں، ہم کب تک ہر واقعے کی ذمہ داری اسرائیل اور بھارت پر عائد کرتے رہیں گے، جامعات میں طلبا کے سوشل میڈیا پر رجحان پر نظر رکھی جائے۔

ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود،ماہرطبعیات ڈاکٹر عبدالحمید نیئر،ڈاکٹر جعفر احمد نے پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری میں اساتذہ کا کردار پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ماہرین نے سوال اٹھایا کہ آخر آج کل دہشت گردی کی کارروائیوں میں انجینئرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کیوں ملوث پائے جارہے ہیں؟ ان افرادکی ٹیکنیکل فیلڈ میں مہارت اس کی بڑی وجہ ہے،دہشت گردوں کا بڑا ہدف ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر انہیں کمزور کرنا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بلا تصدیق کی جانے والی پوسٹ کی وجہ سے انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہورہا ہے، آج دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے یونیورسٹی کے طالب علموں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کر رہی ہیں، اساتذہ کو تعلیمی اداروں میں طلبا کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھنا ہوگی، ملک کو مذہبی ریاست بنانے کی کوشش میں ضیا الحق کے دور میں شیعہ سنی فسادات نے شدت اختیارکی، کالعدم سپاہ محمد،کالعدم سپاہ صحابہ سمیت ملک میں کئی جہادی تنظیمیں وجود میں آگئیں۔

ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا تھا کہ حالیہ دہشت گردی کی جنگ وسائل پر قبضے کے لیے نہیں ہے، دہشت گردوں کا اصل مقصداداروں اور سیکیورٹی فورسز کو کمزور کرنا ہے، مذہب جب سیاست میں آجائے تو لسانیت اور فسادات کی جنگ شروع ہوجاتی ہے، ریاست کا کردار محدود ہوتا جارہا ہے، آج نوجوان نسل نہ صرف دین بلکہ دنیا کے بارے میں بھی زیادہ معلومات نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ انتہا پسندی کی جانب راغب ہورہے ہیں، دہشت گردوں کی جانب سے انجینئرز کو دھماکا خیز مواد تیار کرنے کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر عبد الحمید نیئر کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کے دور میں ملک کو مذہبی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے شیعہ سنی فسادات ہوئے،امام بارگاہوں،مساجد میں لوگوں کا قتل عام ہوا، لسانی فسادات شدت اختیار کرگئے، سپاہ محمد،تحفظ نفاذ فقہ جعفریہ، کالعدم سپاہ صحابہ جیسی کئی جہادی تنظیمیں ملک میں سرگرم ہیں۔

ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ ہر بار یہ بات کی جاتی ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت میں بھارت اور اسرائیل ملوث ہے ہم کب تک ان کی جانب اشارہ کرتے رہیں گے، ہمارے ملک میں جہادی جماعتیں موجودہیں ان کے انتہا پسندانہ لٹریچر لوگوں کو دہشت گردی کی جانب اکسارہے ہیں۔

ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا تھا کہ نظری ایشوز سے استاد معاشرے کی اور نصاب ریاست کی نمائندگی کررہا ہے،ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بہت بڑھ گیا ہے،ریاستی آئین کے ذریعے معاشرے کو اسلامی بنانے کی کوشش ہوتی ہے، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری ماضی کی نسبت اب نہ ہونے کے برابر ہے، ماضی میں لوگوں میں برداشت کامادہ موجودتھا لیکن اب تحمل،بردباری،اقلیتوں کے ساتھ مذہبی رواداری کاعنصرختم ہوتاجارہا ہے۔

دریں اثنا ورکشاپ سے رانا عامر، سید احمد بنوری، وسعت اللہ خان، مبشر زیدی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں