لاہور (11 فروری 2026): سوشل میڈیا کے ذریعے 40 برس بعد اپنی بچھڑی ہوئی ماں کو تلاش کرنے والی معمر خاتون، رضیہ بی بی کی بنگلہ دیش روانگی تلخی میں بدل گئی۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے 40 برس بعد اپنی بچھڑی ہوئی ماں کو تلاش کرنے والی معمر خاتون، رضیہ بی بی کی بنگلہ دیش روانگی اس وقت تلخی میں بدل گئی جب ایف آئی اے نے انہیں ایئرپورٹ پر پرواز سے روک دیا۔ خاتون نے اس اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
علی چنگیزی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں درخواست گزار رضیہ بی بی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 40 سال قبل بنگلہ دیش سے اغوا کر کے کراچی لایا گیا تھا جہاں انہیں فروخت کر دیا گیا۔ کراچی میں قیام کے دوران ان کی شادی ہوئی اور اب وہ پاکستانی شہریت کی حامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے 40 سال بعد انہیں اپنی ماں کا سراغ ملا، جس کے بعد انہوں نے دن رات محنت مزدوری کر کے بنگلہ دیش جانے کے لیے رقم جمع کی۔
رضیہ بی بی کے مطابق تمام سفری دستاویزات اور ویزہ ہونے کے باوجود ایئرپورٹ پر ایف آئی اے نے انہیں بغیر کسی وجہ بتائے آف لوڈ کر دیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آف لوڈ کرنے کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور انہیں والدہ سے ملنے کے لیے بنگلہ دیش جانے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ عدالت ایف آئی اے کو ان کا ہونے والا مالی نقصان پورا کرنے کا حکم دے۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


