کراچی بدامنی کیس،سپریم کورٹ کاایس ایس پی ساؤتھ کو فوری ہٹانے کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی بدامنی کیس،سپریم کورٹ کاایس ایس پی ساؤتھ کو فوری ہٹانے کا حکم

کراچی: سپریم کورٹ نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کے اغوا میں غفلت برتنے پر ایس ایس پی ساؤتھ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیدیا جبکہ پیرول پر رہا افراد کی رہائی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سربراہ نیاز عباسی کورپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی ، جسٹس امیرہانی مسلم نے اویس شاہ کے اغواء کے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبداللہ نامی شخص نے سوا دو بجے ون فائیو پر کال وصول کی۔

چیف جسٹس نے ایس ایس پی فاروق سے استفسار کیا کہ آپ کو واقعے کو پتہ چلا تو آپ نے آئی جی سندھ کو بتایا؟ ایس ایس پی فاروق کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے واقعے میں مصروفیت کی وجہ سے نہیں بتاسکا ۔

دوران سماعت عدالت نے ایس ایس پی فاروق احمد کو وردی میں دیکھ کر چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ بتائیں کہ یہ اب تک وردی میں کیوں ہیں؟، ایس ایس پی سے استفسار کیا گیا کہ آپ کو واقعے کا کب پتہ چلا اور کب کارروائی کی ؟

جسٹس امیر مسلم ہانی نے ریمارکس دیے کہ ایس ایچ او کو پتہ چلا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ایجنسیوں نے اٹھالیا ہوگا، ایس ایس پی ساؤتھ نے اغواکاروں کی غفلت کی جو مجرمانہ غفلت ہے ۔

چیف سیکریٹری نے مہلت لینے کے بعد عدالت کو بتایا کہ ایس ایس پی کو برطرف کردیا گیا ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ صرف برطرفی سے کام نہیں چلے گا کارروائی کرنا ہوگی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اے کلاس کے اکیاسی مقدمات پر رپورٹ طلب کرلی، دوران سماعت آئی جی سندھ نے بتایا دو ہزار چودہ تا دو ہزارپندرہ چار سو آٹھ مقدمات کو اے کلاس کیا گیا، بعد میں سماعت پندرہ جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

آئی جی سندھ کے بیان پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اسطرح مجرموں کو چھوڑا جائے گا تو عدلیہ کیا کرے۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ سنگین جرائم کے مقدمات کیسے ختم کیے جاتے ہیں، دوران سماعت جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنگین مقدمات ختم کرنےسےکس طرح امن ہوگا۔

ڈائریکٹر پیرول نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اچھے برتاؤ پر مجرموں کو قانون کے مطابق چھوڑا گیا تاہم عدالت نے پیرول سے متعلق رپورٹ مسترد کردی۔

عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے متوازی نظام قائم کررکھا ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ جسے عدالت سے ضمانت نہ ملے اسے بھی رہا کردیا جاتا ہے۔

آئی جی سندھ نے سماعت کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا کہ اے کلاس کے تحت بھی تفتیش جاری رہتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود شہر میں کھٹارا بسیں چل رہی ہیں، گاڑیوں کی فٹنس کے احکامات خانہ پری کے کیلئے نہیں دیئے گئے، عدالت میں پیرول سے متعلق رہا ملزمان اور مجرمان کی رپورٹ پیش کی گئی ،جس میں بتایا گیا کہ 25 افراد کو رہا کیاگیا ہے۔

سماعت پندرہ جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں