The news is by your side.

Advertisement

کراچی: اساتذہ کا احتجاج منتشر کرنے کیلئے پولیس کا تشدد ،3اساتذہ زخمی

کراچی: اساتذہ کی ریلی پر سندھ پولیس ٹوٹ پڑی لاٹھی چارج آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، متعدد استاتذہ کو حراست میں لے لیا۔

قومی پرچم اٹھائے سندھ پروفیسر اینڈ لیکچر رزایسوسی ایشن کے اساتذہ نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا جن کا مطالبہ تھا کہ انہیں تنخواہیں ادا کی جائیں، سپلا مظاہرین نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب پیش قدمی شروع کی تو پولیس نے ڈی جے سائنس کالج کے قریب انہیں روک لیا۔

ملازمین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، پولیس نے نہتے اساتذہ پر واٹر کینن کا استعمال کرکے اساتذہ کی دھلائی کرڈالی دھلائی سے پولیس کا دل نہیں بھرا تو اساتذہ پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج شروع کردی۔

پولیس تشدد سے خاتون سیمت تین اساتذہ زخمی ہوگئے ، جبکہ متعدد استاتذہ کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔

ڈی جے سائنس کالج کے باہر سندھ بھر کے کالج اساتذہ پر پولیس کی جانب سے تشدد اور واٹر کینن کے استعمال کے خلاف کل ملک بھر کے تمام سرکاری کالجوں میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

آل پاکستان پروفیسرز اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن نے اساتذہ پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سپلا کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ڈی جے سائنس کالج میں ہنگامی جنرل باڈی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپلا سندھ کے صدر مرتضیٰ علی نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے کالج اساتذہ کو بھی چار درجاتی فارمولے کے تحت ترقیاں دی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاجواز واٹر کینن استعمال کی گئی ، جس کے بعد پچیس اپریل کو ڈی جے سائنس کالج میں سندھ کے اساتذہ کا جنرل کنونشن طلب کیا گیا ہے اور جنرل کنونشن کے بعد دوبارہ وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے ۔

اساتذہ رہنماؤں کاکہنا تھا کہ سیکریٹری تعلیم نے تضحیک آمیز زبان استعمال کی ہے جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری تعلیم ریحان بلوچ پر سپلا نے کرپشن کے سنگین نوعیت کے الزام عائد کیے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں