اتوار, اگست 9, 2026
اشتہار

کراچی : سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار کالعدم زینبیون بریگیڈ کا دہشت گرد اینکر امتیاز میر کی ٹارگٹ کلنگ کا مرکزی سہولتکار نکلا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار کالعدم زینبیون بریگیڈ کا دہشت گرد اینکرامتیازمیرکی ٹارگٹ کلنگ کا مرکزی سہولتکار نکلا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ایک انتہائی اہم اور ہائی پروفائل کارروائی کرتے ہوئے کالعدم زینبیون بریگیڈ کے 4 خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

ان گرفتاریوں میں سب سے اہم کامیابی "رعایت حسین” عرف مولوی کی گرفتاری ہے، جو شہر میں متعدد ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز کا مرکزی سہولت کار نکلا۔

سی ٹی ڈی حکام نے بتایا گرفتار دہشت گرد رعایت حسین اینکر امتیاز میر کی ٹارگٹ کلنگ کا مرکزی سہولت کار تھا۔

تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ امتیاز میر کے قتل کے لیے اسلحہ رعایت حسین نے ہی فراہم کیا تھا، دہشت گرد تنظیم زینبیون بریگیڈ نے رعایت حسین کو "حمزہ” کا کوڈ نیم دے رکھا تھا۔

رعایت حسین کے حوالے سے سی ٹی ڈی نے سنسنی خیز تفصیلات جاری کی ، جس میں بتایا کہ رعایت حسین ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہے اور ایک مدرسے میں پڑھاتا رہا ہے، جسے وہ اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ملزم نے کراچی میں دہشت گردوں کی مختلف ٹیمیں بنا رکھی تھیں، اس نیٹ ورک کی خاص بات یہ تھی کہ ٹیم کا ہر ممبر صرف رعایت حسین کو جانتا تھا، جبکہ ارکان کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں تھا تاکہ گرفتاری کی صورت میں پورا نیٹ ورک بے نقاب نہ ہو۔

حکام کے مطابق رعایت حسین کا کام دہشت گردوں کو اسلحہ کی فراہمی، ٹرانسپورٹ، رہائش اور مالی اخراجات (خرچہ) فراہم کرنا تھا، اس نے ہی ہائی پروفائل دہشت گرد معصوم رضا کو اسلحہ فراہم کیا تھا، جو پہلے ہی اپنے ساتھی اسرار گلگتی کے ہمراہ گرفتار ہو چکا ہے، معصوم رضا بھی متعدد مذہبی ٹارگٹ کلنگز میں ملوث رہا ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ رعایت حسین ایک انتہائی مطلوب اور خطرناک دہشت گرد ہے جس کی گرفتاری سے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے کئی نیٹ ورکس ٹوٹنے کی امید ہے، ملزمان سے مزید تحقیقات جاری ہیں جن میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔

مزید خبریں