The news is by your side.

Advertisement

کراچی ٹیسٹ کا مین آف دی میچ کسے ہونا چاہیے تھا؟ میمز بن گئیں

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈرا ہوگیا، پاکستانی کپتان بابر اعظم نے چوتھی اننگز میں 607 منٹ کریز پر ٹھہر کر شاندار 196 رنز کی اننگز کھیلی۔

آسٹریلیا کے 506 رنز کے تعاقب میں پاکستان ٹیم 7 وکٹوں پر 443 رنز بناسکی۔ تین میچز کی سیریز اب تک 0-0 سے برابر ہے۔

محمد رضوان نے بھی 104 رنز کی دلکش اننگز کھیلی جبکہ نوجوان اوپنر عبداللہ شفیق 96 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز 556 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیئر کی جس کے جواب میں قومی ٹیم 148 رنز پر ڈھیر ہوگئی، آسٹریلوی کپتان نے پاکستان کو فالو آن کروانے کے بجائے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور دوسری اننگز میں 98 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈیکلیئر کرتے ہوئے پاکستان کو 506 رنز کا ہدف دیا۔

کرکٹ شائقین کی جانب سے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ آخری روز پہلے سیشن میں قومی ٹیم مشکلات کا شکار ہوجائے گی اور آسٹریلیا یہ میچ آسانی سے جیت جائے گا لیکن اس کے برعکس ہوا بابر اعظم، محمد رضوان اور عبداللہ شفیق کی اننگز کی بدولت پاکستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد میچ ڈرا کردیا، بابر اعظم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ ڈرا ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کے فیصلے پر میمز بنادیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے لکھا کہ پاکستان کے نکتہ نظر سے پیٹ کمنز کو پلیئر آف دا میچ ہونا چاہیے جنہوں نے فالو آن اختیار نہ کر کے میچ ڈرا کرا دیا۔

پاکستانی کپتان اور نائب کپتان کے ساتھ ٹیم کو شکست سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے عبداللہ شفیق کو بھی ان کے ذمہ دارانہ کھیل پر خوب سراہا گیا۔

انڈین کرکٹ فینز بابراعظم کی بیٹنگ کے معترف ہوئے تو جہاں ان کی ڈبل سنچری نہ ہو سکنے کا ذکر کیا وہیں اقرار کیا کہ اس اننگز کے ساتھ پاکستان کپتان نے خود کو جدید دور کی کرکٹ کا ایک بہت اہم کھلاڑی ثابت کردیا ہے۔

سابق انڈین کرکٹر وسیم جعفر نے بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد گراؤنڈ سے باہر جانے کا منظر دکھاتی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کچھ اننگز جیت دلاتی ہیں مگر کچھ کردار بناتی ہیں۔ دوسری قسم طویل المدت بنیاد پر مفید رہتی ہے۔ بابراعظم اور ان کی ٹیم نے کردار دکھاتی ایسی ہی اننگز کھیلی ہے۔ پیٹ کمنز اور ان کی ٹیم بھی کچھ خاص لمحے دینے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔‘

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 21 سے 25 مارچ تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں