پاک ویسٹ انڈیز کرکٹ میچز اور رمضان میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ
The news is by your side.

Advertisement

پاک ویسٹ انڈیز کرکٹ میچز اور رمضان میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ

کراچی : کے الیکٹرک نے شہر میں اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کادورانیہ بڑھانے کا اعتراف کرلیا اور گیس کی قلت کو جواز بنا کر کہا کہ شارٹ فال کے باعث کراچی والوں کو ویسٹ انڈیز کی سیریز اور رمضان المبارک کے دوران طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے مقامی ہوٹل میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان کے الیکٹرک سعدیہ دادا نے کہا کہ ای سی سی کی انڈر اسٹینڈنگ کے تحت ہمارا سوئی گیس کا کوٹہ 276 ایم ایم سی ایف ڈی ہے لیکن ایس ایس جی سی صرف نوے ایم ایم سی ایف ڈی گیس دے رہی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر گزشتہ برسوں میں کے الیکٹرک کو وافر مقدارمیں گیس مل رہی تھی تو اب کیوں نہیں مل سکتی۔

سعدیہ دادا نے بتایا کہ اس وقت شہرمیں بجلی کی طلب 2800 اور رسد 2200 میگاواٹ ہے، اس شارٹ فال کی وجہ سے شہرکے لوڈشیڈنگ سے مستثنی علاقوں سمیت صنعتی علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کے علاقوں میں دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے.

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اگر کے الیکٹرک کواضافی گیس نہیں ملتی تو نہ صرف پاک ویسٹ انڈیزکرکٹ میچ کے دوران بلکہ رمضان المباک میں بھی بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی اور بجلی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر صورت حال یہ ہی رہی تو صنعتوں کو بھی 24 گھنٹے مکمل بجلی فراہم نہیں کرسکیں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیربرائےپاورڈویژن اویس لغاری نے کےالیکٹرک اورسوئی سدرن کمپنی میں واجبات کے تنازعے کا نوٹس لیتے ہوئے نیپرا کو تنازع کے حل میں کردار ادا کرنے کی ہدایت کردی۔

اویس لغاری کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جائے، دونوں فریق واجبات کامسئلہ فوری حل کریں، وفاقی حکومت کےالیکٹرک کومقررہ کوٹےکےمطابق بجلی دےرہی ہے، کے الیکٹرک حکام سوئی سدرن کوواجبات کی ادائیگی کےاقدامات کریں۔


مزید پڑھیں : سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کا تنازع ، کراچی کے عوام رُل گئے


یاد رہے کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس میں لین دین کے تنازع کے باعث بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا اور عوام بجلی سے محروم ہیں۔

مستثنیٰ علاقوں ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، کلفٹن، ڈیفنس، گلشن اقبال سمیت وہ علاقے جہاں بل مکمل ادا کیا جاتا ہے، وہاں بھی لوڈ شیڈنگ دو دو گھنٹے سے تین تین بار لوڈ شیڈنگ کا عمل جاری ہے جبکہ غیر مستثنیٰ علاقوں جن میں لانڈھی،کورنگی، جعفر طیار، شاہ فیصل کالونی، ملیر، نیو کراچی، اورنگی ٹاؤن، لیاقت آباد، عزیز آباد، گولیمار، گلبہار ، بفرزون سمیت دیگر علاقوں میں لوڈ شینڈنگ کا دورانیہ کو بڑھا کر بارہ گھنٹےسے تجاویز کردیا گیا ہے۔

تعلیمی بورڈ کے امتحانات جاری ہیں جس سے طلبا و طالبات کو دشواری کا سامنا ہے۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ گیس کی کمی کےباعث پیداوارمیں شارٹ فال ہے، 190 کی بجائے90ایم ایم سی ایف ڈی گیس مل رہی ہے، 50 میگا واٹ کےگیس پر چلنے والے پلانٹس بندہیں، ایک گھنٹے کی اضافی لوڈشیڈنگ کرنا پڑرہی ہے،زیادہ گیس ملے گی تو بجلی بھی زیادہ پیدا ہوگی۔

ایس ایس جی سی نے کہا کہ کےالیکٹرک نے اسی ارب کے واجبات ادا کرنےہیں، دس ماہ سے سابق واجبات ادا نہیں کیےگئے، کے ای ایس سی کا تین ماہ سے کرنٹ بل روکا ہوا ہے، ادائیگی نہیں کی ہے،سہولت کیلئے واجبات کے باوجودگیس دے رہے ہیں۔

کے الیکٹرک نے سوئی سدرن گیس سے اضافی گیس کی فراہمی کیلئے رابطہ کیا جبکہ ایس ایس جی سی نے مذاکرات کو بقایا جات کی ادائیگی سے مشروط کردیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں