کراچی سے مکہ مکرمہ تک پیدل سفر کرنے والا پاکستانی -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی سے مکہ مکرمہ تک پیدل سفر کرنے والا پاکستانی

کراچی : خانہ خدا کی زیارت اور گنبد خضرا سے آنکھوں کا وضو کرنے کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں مرتے دم تک رہتی ہے، ایک وقت تھا جب لوگ سنا کرتے تھے کہ فلاں شخص نے پیدل حج کرنے کی سعادت حاصل کی ہے اور لوگ جوق در جوق اس شخص سے ملاقات کرنے اس کا دیدار کرنے کو بھی سعادت کا درجہ دیتے تھے۔

جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ہزاروں کلومیٹر کا پیدل سفر طے کرکے خانہ خدا پہنچے اس کے پیروں سے خون جاری ہو، جسم کمزور اور لاغر ہوچکا ہو، تو کیسے ممکن ہے کہ اس شخص کی گنبد خضرا پر پڑنے والی پہلی نظر اس کی بخشش کا ذریعہ نہ بنے۔

ایک ایسا ہی کثرت رائے نام کا عاشق رسول جس نے اس ترقی یافتہ دور میں بھی کراچی سے مکہ تک پیدل سفر کرکے ایک بہترین مثال قائم کی۔ کثرت رائے نے چھ ہزار کلو میٹر کا سفر ایک سو سترہ دنوں میں پیدل طے کر کے خانہ خدا اور روضہ رسول کی زیارت کی۔


اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کثرت رائے نے اپنے اس مقدس سفر کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ 7 جون سال 2013 کو میں نے اس سفر کا آغاز کراچی پریس کلب سے کیا تھا۔

یہ سفر کراچی سے مکہ مکرمہ براستہ ایران عراق تھا جس میں مجھے حج کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا سفرتھا اور میں نے امن واک کے حوالے سے عالمی قوانین پر عمل کرتے ہوئے 117 دن پورے کیے اور اس سفر کی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ انتظامیہ کو بھی اطلاع دی۔

مدینہ پہنچنے پرمیرا شانداراستقبال کیا گیا

انہوں نے بتایا کہ میں نے یومیہ 55 کلومیٹر کی اوسط سے واک کی، مدینہ پہنچ کر میرا بہت شاندار طریقے سے استقبال کیا گیا 500 گاڑیوں کے قافلہ کے ساتھ میں مدینہ کی حدود میں داخل ہوا اس دوران لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔

پولیس کی گاڑیاں میرے لیے راستہ صاف کروا رہی تھیں جو میرے لیے نہایت تقویت بخش تھا اور وہاں کے دو ٹی وی چینلز نے لائیو کوریج کی۔ مسجد نبویﷺ کے میناردیکھ کر میری کیفیت ناقابل بیان ہوگئی۔

کثرت رائے نے اس سے قبل بھی مختلف پیدل سفر کیے ہیں جو ایک تحریک کی صورت میں ہیں، کثرت رائے کے سفر کا مقصد جہالت، ظلم اور نانصافی کے خلاف ہوتا ہے۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان کا بیٹا اس مثبت سوچ کا حامل ہے۔

میری پہلی امن واک کراچی تا خیبرتھی 

اپنے پہلے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے بھی ایک پاکستانی کی طرح خوشحال پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔

سال 2007 میں جب پاکستان کے حالات بہت خراب تھے دہشت گردی عروج پر تھی تو میں نے دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر قائم کرنے کے لیے کراچی سے خیبر تک پہلی امن واک کی جس کا دورانیہ پچیاسی دن اور اس کا فاصلہ 1999 کلومیٹر تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں بظاہر تو اکیلا چل رہا ہوتا ہوں لیکن حقیقت میں میرے ساتھ پورا پاکستان چل رہا ہوتا ہے،  وہ پاکستانی ساتھ ہوتے ہیں جو ملک کا درد رکھتے ہیں اس کی بہتری چاہتے ہیں۔

مجموعی طور پر سولہ ہزار کلومیٹر کا پیدل سفر کرچکا ہوں

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں اب تک مجموعی طور پر 16 ہزار کلومیٹر کا پیدل سفر کرچکا ہوں، ان یہ سفرکسی نہ کسی مقصد کے لیے کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ کہ مجھے فخر ہے کہ میں واحد پاکستانی ہوں کہ جس نے ایل او سی پر جا کر پاکستان کا جھنڈا لگایا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں