The news is by your side.

Advertisement

پولیس تشدد کیس : موٹرسائیکل سوارنے ہاتھا پائی میں پہل کی

کراچی : ٹریفک اہلکاروں نے شہری کی دھنائی کردی، نوپارکنگ زون پر تنازعہ کے بعد اہلکار اور شہری گتھم گتھا ہوگئے، وردی والوں نے ملکر ہیلمٹ اور لاتوں سے شہری کو مارا پیٹا، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شفیق نفسیاتی مریض  ہے۔ بعد ازاں زخمی شفیق کو تھانے سے شخصی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

اے آر وائی کو ملنے والی سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج نے حقیقت واضح کردی، ویڈیو کے مطابق پہلے شفیق نے پولیس اہلکار پر ہاتھ اٹھایا جس کے بعد دیگر اہلکاروں نے اس پر دھاوا بول دیا۔


CCTV footage exposes the truth: Shafiq struck… by arynews

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے پی آئی ڈی سی چوک پر نو پارکنگ زون پر تنازعہ کے دوران شہری اور ٹریفک پولیس اہلکار گتھم گتھا ہوگئے، جس کے بعد ٹریفک پولیس اہلکاروں نے مل کرشفیق نامی شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا۔


Headlines – 1500 – Monday – 11 – Jan – 2016 by arynews

جس کے بعد ٹریفک پولیس اہلکاروں نے شفیق  کو سول لائن پولیس کےحوالےکردیا، شفیق کے خلاف کارِسرکار میں مداخلت اور اہلکاروں پر تشدد کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ۔

ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں نے شہری کو سمجھایا تھا کہ یہاں گاڑی کھڑی نہ کریں، واقعے پر انکوائری کمیٹی بنادی ہے، جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کیخلاف کارروائی ہوگی جبکہ آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

اطلاع ملنے پر شفیق کے اہل خانہ اور عزیزو اقارب تھانے کے باہر جمع ہوگئے، اور پولیس تشدد کیخلاف بھرپور احتجاج کیا، اس دوران مبنیہ طور پر پولیس کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔

بعد ازاں شفیق کو شخصی ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جسے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ رہائی کے بعد شفیق اوراس کے اہل خانہ نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا۔ میڈیا کے نمائندوں کے ہاتھ سے مٹھائی کھاکر شفیق اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگیا۔

اے ڈی آئی جی طاہر نورانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے واقعے کی تفتیش کی جائے گی۔ اگر پولیس اہلکار ملوّث پائے گئے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

فائرنگ کے حوالے سے ان کا  کہنا تھا کہ مال خانے میں موجود اہلکار جب ڈیوٹی آف کرتے ہیں تو اسلحہ کی چیکنگ کے دوران اتفاقیہ گولی چلنے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں