The news is by your side.

Advertisement

ہیلمٹ کے بعد کراچی میں رانگ وے پر گاڑی چلانے والوں کے خلاف مہم

کراچی: شہر قائد میں ہیلمٹ کی پابندی کی 20 روز تک جاری رہنے والی مہم کی کامیابی کے بعد اب ٹریفک پولیس ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مہم شروع کرنے جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہر قائد میں ہیلمٹ پابندی کی مہم کامیابی سے ہم کنار ہوئی، ایک جولائی سے لے کر بیس چلائی تک 300154 چالان کئے گئے جبکہ شہریوں کو اس موقع پر ہیلمٹ کی اہمیت سے آگاہ بھی کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہیلمٹ مہم کی خلاف ورزی کرنے پر مجموعی طور پر چار کروڑ پانچ لاکھ تیس ہزار ایک سو روپے کا مہم کے دوران شہریوں کو جرمانہ کیا گیا، جبکہ مہم کے دوران دوبارہ خلاف ورزی کرنے پر 194761 موٹر سائیکل ضبط کی گئیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک کا کہنا تھا کہ اب کراچی کی ٹریفک پولیس ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں محسوس ہوا کہ ون وے کی خلاف ورزی کرنے پر شہری بہت پریشان ہیں۔

شہر کی اہم شاہراہوں پر لوگ بننے کی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مہم کا آغاز بھی اسی طرح کیا جائے گا جس طرح ہیلمٹ مہم کا کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیلمٹ مہم اور اب ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مہم کا مقصد قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عموماً ٹریفک پولیس ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نظر انداز کرتی ہے لیکن اس مہم کے دوران ٹریفک پولیس خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاریاں بھی کرے گی۔

جاوید علی مہر نے شہریوں کو متنبہ کیا کہ ون وے کی پابندی ان کی اپنی جان کے تحفظ کے لیے ہے ، لہذا شہری اب ون وے کی خلاف ورزی کرنے سے گریز کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں ہونے والے بیشتر ٹریفک حادثات کا سبب بھی ون وی کی خلاف ورزی ہے۔ نئی مہم کے حوالے سے تمام ٹریفک اہلکاروں کو آگاہی دی جا چکی ہے، ٹریفک پولیس کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے کہ مہم کے دوران کسی بھی شہری کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کی جائے۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے ہیلمٹ مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرانے پر مہم میں تعاون کرنے والے میڈیا اور دیگر سول سوسائٹی کا بھی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں