کراچی میں کُل 46 فلائی اوور اور 14 انڈر پاس ہیں، جو 1980 سے مختلف ادوار میں بنائے گئے، مگر کیا وجہ ہے کہ معمولی بارش میں تمام جگہوں پر پانی جمع ہو جاتا ہے، جب کہ برطانوی دور میں تعمیر ہونے والے پُل پانی جمع ہونے کے مسئلے سے محفوظ رہتے ہیں۔
کراچی میں فلائی اور اور انڈر پاسز کی تعمیرات کی ابتدا 1980 سے ہوئی، جس میں کراچی کے سابق میئر مصطفئ کمال کے دور میں کافی تیزی دیکھنے میں آئی، اُس وقت کراچی میں کُل 14 انڈر پاس اور 46 فلائی اوور بنائے گئے، مگر تمام نئے تعمیر کردہ فلائی اوور اور انڈر پاسز بارشوں کے موسم میں تالاب کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔
شاہراہِ فیصل پر چار لینز پر مشتمل ٹریفک قانون، مگر ایک معمہ!
کراچی میں برطانوی دور میں تعمیر کیے گئے پلوں میں نیٹی جیٹی، چاند ماری پی آی ڈی سی، سٹی ریلوے اسٹیشن اور کلفٹن پل ہیں، جن کو قائم ہوئے آج کئی سو سال ہو چکے ہیں، مگر ان تمام پلوں پر یا اس کے اطراف میں پانی جمع نہیں ہوتا۔ یہ تمام پل آج بھی اپنی مضبوطی اور پائیداری کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ماسوائے قائد عوام کلفٹن برج جس کی تعمیر ایرانی ماہرین نے کی تھی، انگریز کے زمانے میں تعمیر کیے گئے پلوں کے اطراف پانی جمع نہیں ہوتا، نہ ہی وہ دیگر نقائص کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین ان تمام پلوں، فلائی اوورز اور انڈر پاسز کی تعمیر کے درمیان فرق کو متعلقہ اداروں کی نااہلی سے تعبیر کرتے ہیں۔


