site
stats
پاکستان

طلباء میں بڑھتی انتہا پسندی، جامعہ کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی میں حفاظتی اقدامات سخت

کراچی : جامعہ کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی نے اسکروٹنی کے لیے طالب علم کا ڈیٹا سیکیورٹی ایجینسیوں کو دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جامعات میں حفاظتی اقدمات کو سخت کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملہ کرنے والے انجینیئر حسان اور ماسٹر مائنڈ عبدالکریم سروش صدیقی کی کراچی کی جامعات سے اعلیٰ یافتہ ہونے کے بعد جامعہ کراچی اور این ای ڈی یونیورسٹی نے حفاظتی اقدامات مرتب کر لیے ہیں۔

اس حوالے سے وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر سروش حشمت کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے اوراگر محکمہ داخلہ سمیت متعلقہ اداروں نے رابطہ کیا تو طلابء کا ڈیٹا ضرور شیئرکریں گے تاہم اب تک کسی ادارے نے رابطہ نہیں کیا ہے۔

وائس چانسلراین ای ڈی یونیورسٹی نے بتایا کہ سیکیورٹی گارڈز کی جدید تربیت کا عمل مکمل ہوگیا ہے جب کہ یونیورسٹی میں مزید 150 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کی حرکات و سکنات پر بھی نظر رکھی جا سکے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر بروقت کارروائی کی جا سکے۔


ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن قاتلانہ حملے میں بچ گئے، گارڈ جاں بحق


انہوں نے مزید کہا کہ پُرتشدد رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی اور ساتھ طلباء پر اساتذہ کے علاوہ والدین کو بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے منظم گروپ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے مائل کرتے ہیں اور اب دہشت گرد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وائس چانسلر جامعہ کراچی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں متعدد تجاویزات پر غور کرنے کے بعد اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کی منظوری اکیڈمک کونسل سے لی جائے گی۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ حساس اداروں کی جانب سے طلباء کا ریکارڈ طلب کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے تاہم اگرسیکیورٹی ایجنسیوں نے ڈیٹا طلب کیا تو ہر ممکن تعاون کریں گے۔

وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر قیصر خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کومل کراقدامات کرنا ہوں گے اور اب دہشت گرد سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں جس کے تدارک کے لیے والدین اور اساتذہ نے مل کر کام کرنا ہے۔

دوسری جانب سے سندھ حکومت نے صوبے بھر کی جامعات کے طلباء کا ڈیٹا حساس اداروں کو اسکروٹنی کے لیے دینا فیصلہ کیا ہے تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی باقاعدہ مراسلہ جاری نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے خواجہ اظہار الحسن پر قاتلانہ حملے کے دوران ہلاک ہونے والا حملہ آور حسان پی ایچ ڈی اورانجینئر تھا جو کہ انجینیئرنگ یونیورسٹی میں پڑھاتا بھی تھا جب کہ قتل کا ماسٹرمائنڈ عبدالکریم سروش صدیقی جامعہ کراچی میں اطلاقی طبعیات کا طالب علم ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top