کراچی (26 جنوری 2026): سندھ ہائی کورٹ نے جامعہ کراچی کی زمین پر پیٹرول پمپ سیل کرنے کا حکم معطل کر دیا۔
جامعہ کراچی کی زمین پر پیٹرول پمپ قائم کرنے کے الزام پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے پمپ کو سیل کرنے کا حکم دے دیا تھا، جسے ہائی کورٹ نے 3 ہفتوں کے لیے معطل کر دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر سے پیٹرول پمپ سیل کرنے کی رپورٹ طلب کر لی ہے، آئینی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیٹرول پمپ بحال کرنے کی ہدایت کر دی۔
پی ایس او نے عاصم اقبال ایڈووکیٹ کے توسط سے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں درخواست گزار نے کہا کہ جامعہ کراچی کی زمین پر قبضے کا الزام غلط ہے، اس نے 2012 سے زمین خریدی ہوئی ہے، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے پیٹرول پمپ سیل کرنے سے پہلے درخواست گزار کو صفائی کا موقع نہیں دیا۔
مالک کے انتقال پر کرایہ کس کو دیا جائے گا؟ سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کر دیا
دریں اثنا، گلستان جوہر بلاک 2 میں اسکول کے پلاٹ پر چائنا کٹنگ کے کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے، عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے کہا پلاٹ نمبر ایس ٹی 29،28 پارک اور اسکول کے لیے مختص ہیں، لیکن خالد شاہ اور دیگر اس زمین پر قبضہ کر کے مکانات بنانے کے لیے اسے فروخت کر رہے ہیں۔
اس کیس میں وزارت بلدیات، کے ڈی اے، ایس بی سی اے، کے ایم سی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں


