The news is by your side.

Advertisement

جامعہ کراچی میں طالبات کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی کیخلاف احتجاج

جامعہ کراچی میں طالبات نے کرکٹ کھیل کے انوکھا احتجاج ریکارڈ کرایا، طالبات پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی کے بعد احتجاج کیا گیا ۔

یفصیلات کے مطابق انتہا پسندی کی سوچ کی نفی کرنے کے لیے جامعہ کراچی کی آرٹس لابی کے باہر طالبات نے کرکٹ کھیل کر احتجاج کیا، اور فوری انصاف کے نعرے لگائے، انہوں نے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، جس میں پابندی کے خلاف نعرے درج تھے.

طالبات کا کہنا ہے کہ صحت مند سرگرمیوں سے روکنا اور انتہاپسند سوچ کو تھوپنانہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے.

جامعہ کراچی میں طالبات کی جانب سے آرٹس لابی کے سامنے کیے جانے والے احتجاجی مظاہرے کے موقع پر میڈیا کو کوریج سے روکنے کی کوشش کی گئی ، صحافیوں کے ساتھ جامعہ کراچی کے سیکیورٹی گارڈ نے بدتمیزی کی، مسلح گارڈز نے صحافیوں کو دھکے بھی دئیے اور تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ متعدد صحافیوں کے موبائل فون چھین لئے گئے.

صورتحال کئی گھنٹے کشیدہ رہنے کے بعد انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے ، جس میں تشدد کرنے والے جامعہ کراچی کے ملازمین کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ، جامعہ کراچی کی اس وقت صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور معمول کی تدریس کا عمل متاثر ہوا ہے ۔

طلبہ و طالبات کے احتجاج کے بعد کشیدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کو طلب کرلیا ہے.

جامعہ کراچی میں شام کی کلاسنز منسوخ کرنے کا اعلان

جامعہ کراچی میں کشیدگی کے باعث وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر نے آج شام کی کلاسنز منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ، جس کے بعد طلبہ و طالبات واپس چلے گئے ۔ جامعہ کراچی میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی جامعہ کراچی کے رجسٹرار معظم علی نے بھی سخت مذمت کی ہے اور صحافیوں سے گفتگو میں پیش آنے واقعے کو افسوسناک قراردیا ، جبکہ وائس چانسلر جامعہ کراچی نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو تین دن میں رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کرے گی۔

جامعہ کراچی میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب صحافیوں کو طالبات کے احتجاج کی کوریج پر جامعہ کراچی کے انتظامی اسٹاف اور واچ اینڈ وارڈ سیکیورٹی عملے نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ جس کے بعد جامعہ کراچی میں تدریسی عمل متاثر رہا اور متعدد کلاسز معطل رہیں۔ صحافیوں پر تشدد کے بعد مذاکرات کا عمل جاری رہا جس کے بعد وائس چانسلر نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام گیٹس کھول دیے جائیں تاہم وائس چانسلر کے احکامات پر بھی انتہائی تاخیر سے عمل کیا گیا.

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے بھی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ طلباء وطالبات، اور اساتذہ کی آمد ورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے جبکہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر والدین بھی اپنے بچوں کو لینے کیلئے یونیورسٹی پہنچ گئے تھے.

یاد رہے کہ چند روز قبل جامعہ کراچی میں طالبات اور طلباء نے ملکر کرکٹ کھیلی تو دو طلبہ تنظیموں میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ، جس کے بعد طالبات اور طلباء کے آپس میں مل کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگادی گئی تھی.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں