The news is by your side.

سندھ میں 2 ہفتوں میں ڈی این اے لیب کا قیام ممکن نہیں: جامعہ کراچی

کراچی: جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ سندھ میں 2 ہفتوں میں ڈی این اے لیب کا قیام ممکن نہیں، فنڈز ملنے کے بعد لیب کے قیام میں 6 سے 8 ماہ درکار ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں فرانزک لیب کے قیام کا معاملہ الجھ گیا، سندھ حکومت نے فرانزک لیب کے لیے نیا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔

جامعہ کراچی کے سینٹر میں فوڈ اور بیالوجی سیمپل کے ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

حکومت نے پہلے جامعہ کراچی کے سینٹر کو ڈی این اے فوڈ کیمیکل ٹیسٹ لیبارٹری قرار دیا تھا، اب نئے نوٹی فکیشن میں سینٹر کو صرف فرانزک ڈی این اے، سیرولوجی لیبارٹری قرار دے دیا ہے۔

دوسری طرف جامعہ کراچی کے سینٹر میں فوڈ اور بیالوجی سیمپل کے ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈی این اے اور سیرولوجی کے لیے کنٹرول لیب قائم ہوگا جس میں بین الاقوامی معیار کے تمام آلات نصب ہوں گے۔

جامعہ کراچی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جدید اور مہنگے آلات کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا جائے گا، لیب کے قیام میں 6 سے 8 ماہ درکار ہوں گے، عدالتی حکم آیا تو عجلت میں ریسرچ سینٹر کو لیبارٹری قرار دے کر نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔


یہ بھی پڑھیں:  سپریم کورٹ کا سندھ میں دو ہفتے میں فرانزک لیب بنانے کا حکم


خیال رہے کہ چار دن قبل سپریم کورٹ نے سندھ میں دو ہفتے میں فرانزک لیب بنانے کا حکم دیا تھا، فرانزک لیب کے سلسلے میں کراچی رجسٹری میں اہم اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔

اجلاس میں ہوم سیکریٹری، سیکریٹری صحت سیمی جمالی اور جامعہ کراچی کے نمائندے شریک ہوئے۔

سندھ میں لیب نہ بننے پر قائم مقام چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ لیب کے قیام میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں