کراچی (01 دسمبر 2025): جامعہ کراچی کے اساتذہ نے انٹرنیشنل سینٹر فار سائنس بل 2025 کو مسترد کر دیا ہے۔
انجمنِ اساتذہ جامعہ کراچی نے ICCBS کی کراچی یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے کے مجوزہ بل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی بی ایس کی جامعہ کراچی سے علیحدگی کی شق پر انھیں شدید اعتراض ہے۔
سائنس دانوں اور اساتذہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ سے بل واپس لینے کی اپیل کی گئی ہے، اساتذہ کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی بی ایس کی ترقی جامعہ کراچی کے ساتھ جڑی ہے، مجوزہ بل سے 650 ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کے ریسرچ پراجیکٹس متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انجمن اساتذہ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بی ایس کے 100 ایکڑ رقبے اور 27 عمارتوں کا انفرا اسٹرکچر ٹیکس پیئر منی سے قائم کیا گیا ہے، اور صرف 2 ڈونرز کو ادارے کا مکمل اختیار دینا سنگین مذاق ہے، دو ڈونرز کی ڈونیشن ادارے کے بجٹ کا 1 فی صد بھی نہیں ہے۔
سندھ کابینہ نے کراچی میں رینجرز کی تعیناتی مزید ایک سال کے لیے بڑھا دی
انجمن نے کہا کہ اساتذہ اور ملازمین کے بنیادی حقوق بل میں نظر انداز کیے گئے ہیں، اس لیے کراچی یونیورسٹی کو دو لخت کرنے کی یہ کوشش ناقابل قبول ہے، اور حکومت سندھ اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے۔
انجمن اساتذہ نے بدھ کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان بھی کر دیا ہے، اور بدھ کو اساتذہ کا مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے، جب کہ جمعرات کو تمام اساتذہ تنظیموں کا مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا، اگر بل واپس نہ لیا گیا تو فپواسا سمیت دیگر فورمز سے رابطے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
انجمن اساتذہ کا کہنا ہے کہ جمہوری اقدار اور جامعات کی خودمختاری پامال نہ کی جائے، اربوں کی پراپرٹی چند کروڑ کے ڈونرز کے حوالے کرنا ناانصافی ہے، اساتذہ سے شکایت کا حق اور قانونی چارہ جوئی چھین لینا ناقابل قبول ہے، حکومت نئے انفرا اسٹرکچر کے ساتھ نئی جامعات بنائے، موجودہ اداروں کو نہ توڑے۔


