جامعہ کراچی کے طلبہ کا ریکارڈ تفتیشی اداروں کو دینے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

جامعہ کراچی کے طلبہ کا ریکارڈ تفتیشی اداروں کو دینے کا فیصلہ

کراچی : سندھ حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کے سیکورٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا، جامعہ کراچی کے طلبہ کاریکارڈ تفتیشی اداروں کو فراہم کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا ماسٹر مائنڈ انصار الشریعہ کا سروش صدیقی جامعہ کراچی کا طالب علم نکلا، جس کے بعد سندھ حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کے سیکورٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

زرائع کا کہنا ہے وزیر اعلی سندھ نے سیکورٹی آڈٹ کرانے سے متعلق تجاویز کی منظور ی دے دی ہے، سیکیورٹی آڈٹ کے مطابق تمام طالب علموں کا ریکارڈ یکجا کیا جائے گا، داخلہ لینے والے طالب علموں کا بیک گراؤنڈ بھی چیک کیا جائے گا۔

سیکیورٹی آڈٹ کے ذریعے نئی داخلہ پالیسی تشکیل دی جائے گی، دیگر ملکوں اور شہروں سے آئے طلبہ کا ریکارڈ الگ کیا جائے گا، طلبہ کا ریکارڈ کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے شیئر کیا جائے گا جبکہ سی ٹی ڈی میں ریکارڈ سے متعلق باقاعدہ سیل بھی قائم کیا جائے گا۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کے طلبہ کا ریکارڈ تفتیشی اداروں کو دینے کا فیصلہ کر لیا گیا، منظوری کیلئے وائس چانسلر نے اکیڈمک کونسل کا اجلاس طلب کرلیا، طلبہ سے مقامی پولیس اسٹیشن کاسرٹیفکیٹ بھی لیاجائے گا، جس کی منظوری بھی اکیڈمک کونسل کےاجلاس میں لی جائے گی۔

ذرائع جامعہ کراچی کے مطابق انتہاپسندانہ اقدامات اور دہشت گردی کے واقعات میں طلبہ کے ملوث ہونے پر فیصلہ کیاگیا جبکہ

جامعہ کراچی کی رہائشی اسٹاف کالونی کی تلاشی بھی لی جائے گی۔


مزید پڑھیں : ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن قاتلانہ حملے میں بچ گئے، گارڈ جاں بحق


گذشتہ روز خواجہ اظہار الحسن پر حملے میں ملوث دہشتگرد تنظیم انصارالشریعہ کے ترجمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار پر تین روز قبل عیدالاضحٰی کی نمازکے بعد حملہ کیا گیا تھا، جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے، حملے میں خواجہ اظہارالحسن کا پولیس گارڈ اورایک بچہ جاں بحق ہوئے تھے، انصارالشریعہ نےخواجہ اظہارپرحملےکی ذمےداری قبول کی تھی۔

انصار الشریعہ کا مرکزی کمانڈر اور خواجہ اظہار پر حملے کا ماسٹرمائنڈ عبدالکریم سروش صدیقی زخمی حالت میں فرار ہوگیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں