کراچی(6 اگست 2026): شہرِ قائد کے علاقے کلفٹن اور ڈیفنس جانے والے شہریوں کو پولیس کی جانب سے ڈرا دھمکا کر رشوت وصول کرنے کا گھناؤنا کلچر تاحال ختم نہیں ہو سکا ہے۔
شہرِ قائد کے علاقے کلفٹن اور ڈیفنس جانے والے شہریوں کو پولیس کی جانب سے ڈرا دھمکا کر رشوت وصول کرنے کا گھناؤنا کلچر تاحال ختم نہیں ہو سکا ہے، جس کا تازہ ثبوت تھانہ گزری کی حدود میں سامنے آنے والی ایک اور وائرل ویڈیو ہے۔
گزری پولیس کی جانب سے ایک شہری کو خاتون کے ساتھ راستے میں روک کر مبینہ طور پر رشوت لینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس نے پولیس کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کی شہریوں کے ساتھ گفتگو کے چونکا دینے والے مکالمے سامنے آئے ہیں، ایک پولیس اہلکار نے اپنے ساتھی سے مکالمے میں کہا ’بات سنو صاحب، اس سے 30 ہزار روپے لوں‘۔
شہری کو ڈراتے ہوئے کہا گیا ’پکڑ لیں صاحب، ہم نے رحم کیا ہے مگر آئندہ یہاں نہیں آنا‘ پولیس اہلکار نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا یہ تو ہم نے تمہیں سائیڈ سائیڈ کر کے نکال دیا، تم صرف مار نہ کھانے کے لاکھ لاکھ روپے دیتے۔
اہلکار نے شہری سے کہا کہ اچھے برے کی بات نہیں، ہم نے بھی پریشانی سے بچنا ہوتا ہے۔ شہری کو مزید خوفزدہ کرتے ہوئے کہا گیا ہم تمہیں تھانے میں دیتے ہیں تو کل صبح تمہیں 10 بجے کورٹ میں پہنچنا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے پولیس کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوتا ہے اور عام شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ اعلیٰ حکام کی جانب سے اس قسم کے دندناتے ہوئے عناصر کے خلاف سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


