کراچی (19 مارچ 2026): وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں پانی کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کے فور واٹر سپلائی پروجیکٹ اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کے تحت جاری اصلاحات کی بروقت تکمیل شہر کی بڑھتی ہوئی آبی و نکاسی آب کی ضروریات پوری کرنے کیلیے ناگزیر ہے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی کے پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی جدید اور مؤثر پانی کی فراہمی کے نظام کی متقاضی ہے اس لیے تمام جاری منصوبوں کو مقررہ وقت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔
اجلاس میں صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ، جام خان شورو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، چیئرمین سی آئی ای سی ڈاکٹر سروش ہشمت لودھی، چیف ایگزیکٹو آفیسر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن احمد علی صدیقی، پروجیکٹ ڈائریکٹر کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی عائشہ حمید، چیف آپریٹنگ آفیسر کے ڈبلیو ایس سی اسداللہ خان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ٹینکر سسٹم بند کرو، لوگوں کو لائنوں کے ذریعے پانی دو، عدالت کا حکم
مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ کے فور پائپ لائن پر کام تیز کر دیا گیا ہے خصوصاً کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کے ساتھ مشترکہ 2.7 کلومیٹر طویل کوریڈور پر کام جاری ہے، منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلیے اب روزانہ دو بڑی پائپ لائنز بچھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ گنجان آباد علاقوں میں موجود یوٹیلٹی لائنز کے پیش نظر جدید کھدائی تکنیک استعمال کی جائے تاکہ عوامی انفراسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے اور شہری خدمات متاثر نہ ہوں۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے فیز ون کے متعدد اہم اجزا تکمیل کے قریب ہیں، ایک کسٹمر سروس سینٹر مکمل ہو چکا ہے جبکہ دیگر سینٹرز آخری مراحل میں ہیں، سینٹر آف ریفارم، ریسرچ اینڈ انوویشن (سی ای آر آر آئی) کی عمارت اور سروس گاڑیوں کیلیے پارکنگ شیڈز بھی زیر تعمیر ہیں۔
حکام نے دھابیجی رائزنگ مین اور دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی بحالی میں نمایاں پیشرفت سے بھی آگاہ کیا جو کراچی کے بڑے پیمانے پر پانی کی ترسیل کے نظام کیلیے انتہائی اہم ہیں۔
ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے صارفین کیلیے ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے شہری بلوں کی ادائیگی، شکایات کا اندراج اور واٹر ٹینکر کی بکنگ آن لائن کر سکتے ہیں، یہ پلیٹ فارم اردو، انگریزی اور سندھی زبانوں میں دستیاب ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے تحت پسماندہ اور غیر رسمی آبادیوں تک پانی اور سیوریج کی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے، صوبا نگر اور عیسیٰ نگری جیسے علاقوں کو کمیونٹی پروگرامز کے ذریعے بہتر نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پانی اور نکاسی آب کی سہولیات تک مساوی رسائی منصوبے کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے تاکہ کراچی کے ہر شہری کو محفوظ پانی اور مناسب سیوریج کی سہولت میسر ہو۔
اجلاس میں کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے فیز ٹو کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے تحت پانی کے انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید وسعت دی جائے گی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ آئندہ مرحلہ عالمی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے تعاون سے شروع کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کی کامیابی کراچی کے پانی اور سیوریج کے نظام میں بنیادی تبدیلی لائے گی، اس لیے موجودہ رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کیلیے دیرپا بہتری فراہم کی جائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


