بدھ, اپریل 22, 2026
اشتہار

دہشتگردوں نے درندگی کی انتہا کر دی، زخمی ایف سی اہلکاروں کو ایمبولنس میں زندہ جلا دیا

اشتہار

حیرت انگیز

کرک (24 فروری 2026): فتنہ الخوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا کر ان مریضوں کو زندہ جلا دیا۔

آگ میں جلا کے شہید کیے جانے والے ایف سی کے تمام اہلکار خیبر پختونخواہ کے مقامی تھے، خوارج نے اس واقعے کی پوری فلم بندی کر کے اُس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا، تاکہ عوام میں خوف و دہشت پھیلائی جا سکے۔

23 فروری 2026 کو کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر فتنہ الخوارج نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا تھا، حملے کے بعد ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینس زخمیوں کو لینے پوسٹ پر پہنچ گئیں، واپسی پر ان دونوں ایمبولینسوں پر فتنہ الخوارج نے حملہ کر دیا۔

ایک ایمبولینس کو آگ لگا کر مریضوں سمیت جلا دیا گیا، جب کہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئی، آگ لگنے کی وجہ سے ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی جھلس گئے۔ آگ میں جل کر شہید ہونے والے زخمی اہل کاروں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں، سپاہی مراد گل شہید اور سپاہی ایان خان شہید کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو سے تھا، جب کہ لانس نائیک عادل خان شہید کا تعلق ضلع مانسہرہ سے تھا۔

دیگر زخمیوں میں حوالدار صابر ولد حکیم شاہ، محمد یوسف ولد شربت خان، حنیف ولد گل زرین اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں جو صوبے کے رہائشی ہیں، جنھیں علاج کے لیے بنوں اور کرک کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

فتنہ الخوارج نے مقامی پختونوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ان عناصر کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جب کہ رمضان کے مقدس مہینے میں خوارج کی جانب سے ایک سافٹ ٹارگٹ کو چنا جانا اور زخمیوں کے ساتھ ظلم کھلی بربریت اور اسلام کے منافی عمل ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں